زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 45

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 45 جلد چهارم ما پیشہ کو ذلیل نہ سمجھا جائے اور ہر پیشہ سیکھنے کی کوشش کی جائے 2 مارچ 1936ء ساڑھے آٹھ بجے صبح حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے صنعتی سکول واقع محلہ دار البرکات قادیان کا افتتاح فرمایا۔اس موقع پر تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔آج آپ لوگوں کو یہاں آنے کی اس لئے تکلیف دی گئی ہے کہ میرا منشاء ہے آج ہم دعا کر کے اس صنعتی سکول کا افتتاح کریں جس کا اعلان میں پہلے کر چکا ہوں۔دنیا میں تعلیم اور صنعت و حرفت علیحدہ علیحدہ تنگ دائروں میں تقسیم ہو سکتی ہے۔ورنہ بڑے بڑے دائرے تو صرف دو ہی ہیں۔جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے علم دو ہیں علم الادیان اور علم الا بد ان 1 یعنی ایک علم وہ ہے جو دین کو نفع دیتا ہے اور دوسرا علم وہ ہے جو جسم کو نفع دیتا ہے۔لوگوں نے اس علم کے معنی طب کے بھی کئے ہیں۔بے شک طب بھی اس سے مراد ہو سکتی ہے لیکن اس کے معنی یہ ہیں کہ ہر وہ علم جس کا مادیت کے ساتھ تعلق ہو۔پس رسول کریم صلى الله نے در حقیقت علم کی تعریف یہ فرمائی ہے کہ جو روح یا جسم کو فائدہ دے۔جو علم روح یا جسم کے لئے فائدہ مند نہیں وہ علم نہیں کھیل ہے اور اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔وہ علم جو روح کو نفع دے وہ تو اس وقت دین اسلام ہی ہے کیونکہ باقی دین اس قابل نہیں که وہ روح کو کوئی فائدہ پہنچا سکیں۔روحانی لحاظ سے صحیح طور پر اور ہر ضرورت کے موقع پر نفع دینے والی چیز صرف اسلام ہے۔باقی رہا علم الا بد ان اس علم کا تعلق مختلف پیشوں سے ہے۔