زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 320

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 320 جلد چهارم لئے خاص اہتمام اور فکر ضروری ہے۔پس آپ اپنے آپ کو حقیر نہ سمجھیں بلکہ اپنی اور اس وقت کی قدر و قیمت کو پہچانیں۔اگر آپ آئندہ زندگی کی بنیاد کو صحیح لائنوں پر استوار کریں گے اور پھر اسے مضبوط سے مضبوط تر کرتے چلے جائیں گے تو پھر یاد رکھیں یہ بنیاد ایک طرف زمین کے پاتال تک اور دوسری طرف آسمان کی غیر محدود بلند یوں تک جاسکتی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتُ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ تُوتِى أَكُلَهَا كُلَّ حِينِ بِاِذْنِ رَبَّهَا 2 یعنی نیک بات کی مثال اچھے درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں تو زمین میں گڑی ہوئی ہیں لیکن اس کی شاخیں آسمان میں ہیں اور وہ ہر وقت اپنے رب کے حکم سے تازہ بہ تازہ پھل دیتا رہتا ہے۔پس اگر آپ چاہیں تو آپ کی شاخیں آسمان میں جا کر فرشتوں سے باتیں کر سکتی ہیں اور اسی طرح آپ دنیا میں اپنے کارناموں سے تاریخ کا رخ موڑ سکتے ہیں۔حقیقی علم کا سر چشمہ اس ضمن میں حضور نے طلباء کو قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کے کارناموں کو پڑھنے اور ان کی قائم کردہ روایات کو آگے بڑھانے کی طرف توجہ دلائی۔اور فرمایا کہ تاج محل تو ایک عمارت ہے دنیا کے کونے کونے سے لوگ اسے دیکھنے آتے ہیں۔اگر آپ ان لائنوں پر کام کر کے آئندہ زندگی کی بنیاد ڈالیں گے تو آپ کے ذریعہ عقل و شعور اور عمل و کردار کی جو جماعت تعمیر ہوگی وہ تاج محل سے بہت زیادہ بلند و بالا اور رفیع الشان ہوگی۔جس اشتیاق سے لوگ تاج محل کو دیکھنے جاتے ہیں اس سے کہیں زیادہ جوش اور اخلاص کے ساتھ وہ آپ کے پاس آئیں گے اور بہت زیادہ تعداد میں آئیں گے۔اصل چیز یہ ہے کہ آپ لوگ اسلام کے بتائے ہوئے طریق پر عمل کریں۔آپ اسلام سیکھیں۔خدا تعالیٰ سے تعلق قائم کریں اور پھر اس کے عطا کردہ علم کی مدد سے دنیا کے استاد بنیں۔اگر اللہ تعالیٰ سے انسان کا تعلق قائم ہو جائے تو پھر اللہ تعالیٰ انسان کو وہ علم عطا کرتا ہے کہ جس کے آگے دنیوی ذرائع سے حاصل ہونے والا علم کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔جس کو خدا تعالیٰ علم کی دولت سے مالا مال کر