زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 319
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 319 جلد چهارم عادتیں چھوٹی عمر میں گھر کر لیں وہ بعد میں مشکل سے ہی جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اسلام میں بچے کی تربیت کا سلسلہ اُس وقت سے ہی شروع ہو جاتا ہے کہ جب وہ پیدا ہوتا ہے کیونکہ حکم ہے کہ جب بچہ پیدا ہو تو اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر کہی جائے 1 پہلے لوگ اس بات کی اہمیت اور ضرورت کو سمجھنے سے قاصر تھے اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ اتنے سے بچے کے کان میں اذان وغیرہ دینا بے معنی ہے۔لیکن اب سائیکالوجی نے ثابت کر دیا ہے کہ سب سے پہلے بچے کے کان کام کرنے لگتے ہیں۔سو نو زائیدہ بچے کے کان میں اذان کہنے سے شریعت کی غرض یہ تھی کہ جب پہلے روز سے ہی یہ الفاظ بچے کے کانوں میں ڈالے جائیں گے تو ان الفاظ کا احترام ہمیشہ اس کے دل میں قائم رہے گا کیونکہ بڑا ہونے کے بعد جب بھی اسے یہ بتایا جائے گا کہ تیرے پیدا ہونے پر تیرے کان میں یہ آواز ڈالی گئی تھی یقیناً ان الفاظ پر غور کرنے اور ان کے مفہوم کو سمجھنے کی طرف اسے رغبت پیدا ہوگی۔اور اس طرح وہ ان باتوں کو اپنے لئے مشعل راہ بنانے کی طرف مائل ہوتا چلا جائے گا۔الغرض بچپن اور پھر طالب علمی کا زمانہ اس لحاظ سے انتہائی اہم ہوتا ہے کہ اس میں آئندہ زندگی کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔عقل وشعور اور زندگی کی بنیاد سلسلۂ خطاب جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں جب کسی عمارت کی بنیا د رکھی جاتی ہے تو اُس وقت باقاعدہ ایک تقریب منعقد کر کے بڑے بڑے لوگوں کو بلایا جاتا ہے اور بڑی خوشی منائی جاتی ہے۔یہ سب اہتمام ظاہر کرتا ہے کہ لوگ ایک عمارت کی بنیاد کو بھی بڑی اہمیت دیتے ہیں۔اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ آپ اپنے اس زمانہ طالب علمی میں جس عمارت کی بنیا درکھ رہے ہیں اس کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔آپ جو بنیا درکھ رہے ہیں وہ عقل و شعور اور زندگی و عمل کی بنیاد ہے۔اس کے آگے اس بنیاد کی جو مٹی اور چونے سے اٹھائی جاتی ہے کوئی حیثیت نہیں۔عقل و شعور اور زندگی و عمل کی بنیاد اینٹ پتھر اور چونے کی بنیاد سے بہت زیادہ اعزاز و اکرام کی مستحق ہے اور اس کے