زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 309

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 309 جلد چهارم فرمائے۔میں ابھی ابھی مولوی محمد دین صاحب ناظر تعلیم سے یہ ذکر کر رہا تھا کہ ہمارے مرکز میں اب تعلیم حاصل کرنے والے لڑکوں اور لڑکیوں کی تعداد اللہ تعالیٰ کے فضل سے اتنی بڑھ چکی ہے کہ ہمیں جلد سے جلد ان کے لئے ایک ایک اور ہائی سکول قائم کرنا چاہئے۔لیکن اس کے راستے میں سب سے بڑی روک سلسلے کی مالی مشکلات ہیں جو اُس وقت تک دور نہیں ہو سکتیں جب تک کہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں میں محض ملازمتیں کرنے کی بجائے مختلف زرعی ، تجارتی اور صنعتی لائنوں کی طرف جا کر ان میں ترقی کرنے ، زیادہ کمانے اور سلسلہ کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنے کا رجحان پیدا نہیں ہوتا۔حضور نے فرمایا اگر ہمارے تعلیمی اداروں میں درس تعلیم کے ساتھ ساتھ مختلف دستکاریوں کے سکھانے کا بھی انتظام ہو تو اس سے یقینا یہ رجحان ترقی کر سکتا ہے۔مثلاً اگر ہمارے اس سکول میں لوہارا اور تر کھا نا کام سکھایا جائے تو ہمارے بہت سے بچے سکول سے فارغ ہو کر ان لائنوں میں ترقی کر سکیں گے۔اسی طرح اگر ایک زمیندارہ کلاس اس میں ہو جس میں بتایا جائے کہ کون سے وقت کون سی فصل اچھی ہوتی ہے، مختلف فصلوں کے ہل چلانے اور پانی دینے کا کیا طریق ہے، اچھا بیج استعمال کرنے اور مناسب موقع پر کھاد دینے سے پیداوار میں کتنا اضافہ ہو جاتا ہے۔اس طرح کی ابتدائی باتیں اگر زمیندار بچوں کو سکول میں ہی بتا دی جائیں تو اس سے یقیناً وہ بڑے ہو کر بہت فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور جماعت کے زمینداروں کی پیداوار کہیں سے کہیں پہنچ سکتی ہے۔زرعی ترقی کی اہمیت حضور نے یورپ کے مختلف ممالک کی فی ایکٹر پیداوار کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر ہمارے احمدی زمیندار محنت سے کام کریں اور زرعی ترقی کے لئے نئے نئے تجربات سے فائدہ اٹھائیں تو ان کی آمدنیاں کئی گنا بڑھ سکتی ہیں۔اور اگر وہ اپنی پیداوار کا معیار یورپ کی کم سے کم پیداوار تک بھی لے جائیں تو جماعت کا چندہ بآسانی ساڑھے تین کروڑ تک پہنچ سکتا ہے۔اور ہم ایک سکول چھوڑ کٹی مزید سکول اور کالج قائم کر سکتے ہیں۔