زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 310

زریں ہدایات (برائے طلباء) 310 جلد چهارم حضور نے فرمایا ہماری جماعت کے جماعت کی مالی قربانی عدیم النظیر ہے کام دوحصوں میں منظم ہیں۔ایک کام ہے اپنی آمد نیوں کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا۔یہ کام ہماری ذاتی ہمت اور سعی سے تعلق رکھتا ہے۔اور موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ جماعت نے پوری ہمت سے یہ کام نہیں کیا اور اس میں ترقی کی ابھی کافی گنجائش ہے۔دوسرا کام ہے دین کی خدمت کے لئے چندہ دینا۔یہ کام دل سے تعلق رکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور اس کام میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں نمایاں کامیابی عطا فرمائی ہے۔پس جو کام ہمارے اختیار میں تھا اس کے کرنے میں تو ہم نے کوتاہی کی ہے لیکن جو کام اللہ تعالیٰ کے اختیار میں تھا وہ اس نے کر دیا ہے اور ایسے رنگ میں کر دیا ہے کہ دنیا ہماری جماعت کی مالی قربانی کو دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے۔ہمارے پاکستان کے احمدی جس طرح پیٹ کاٹ کاٹ کر دین کے لئے چندہ دیتے ہیں اس کی فی الواقع کوئی مثال نہیں مل سکتی حالانکہ یورپ کے مقابلہ میں ان کی آمدنیاں بہت ہی محدود ہیں۔اگر پاکستان کا معیار زندگی بھی یورپ اور امریکہ جتنا بلند ہو اور پاکستانی احمدی اپنی موجودہ شرح کے مطابق ہی چندہ دیں تو بھی ہمارا چندہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پورے پاکستان کی موجودہ سالانہ آمدنی کے لگ بھگ پہنچ سکتا ہے۔اور ہم تعلیمی اور رفاعی کاموں میں بیسیوں گنا زیادہ حصہ لے سکتے ہیں۔حضور نے فرمایا ہمارے نوجوانوں میں بی۔اے، ایم۔اے ٹیکنیکل پیشوں کی اہمیت کرنے کا بہت شوق ہے۔وہ خواہ فیل ہی ہوتے رہیں پھر بھی کالج میں جانے کے بہت شوقین ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ٹیکنیکل لائنوں کی طرف جانے کو پسند نہیں کیا جاتا۔حالانکہ ان لائنوں میں ملازمتوں کی نسبت ترقی کرنے اور روپیہ کمانے کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔حضور نے کئی ایک مثالیں دیتے ہوئے واضح فرمایا کہ کس طرح بعض دستکاروں نے نہایت معمولی اور محدود پیمانے پر کام شروع کیا اور پھر ترقی کرتے ہوئے کہیں سے کہیں پہنچ گئے۔