زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 301

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 301 الله جلد چهارم کہ آیا اس نے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو اسلام کی تعلیم پر چلا یا یا نہیں۔ان کو اسلام کی تعلیم دی ہے یا نہیں۔خاوند ہے اس سے بیوی کے متعلق سوال کیا جائے گا۔افسر ہے اس سے ماتحتوں کے متعلق سوال کیا جائے گا۔دوست ہے اس سے اس کے دوستوں کے متعلق سوال کیا جائے گا۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں جوں جوں تعلیم کا رواج بڑھ رہا ہے دین کی طرف رغبت کم ہو رہی ہے۔تعلیم کو رواج دینا تو ضروری امر تھا۔رسول کریم ﷺ نے اس کو مسلمانوں پر واجب قرار دیا ہے۔مثلاً آپ نے فرمایا ہے کہ اگر تمہیں چین میں بھی صلى الله علم سیکھنے کے لئے جانا پڑے تو جاؤ2 اور جب رسول کریم ﷺ نے مسلمانوں کے لئے تعلیم کو اس قدر ضروری قرار دیا ہے تو ہمیں چاہئے تھا کہ ہم اس قدر ضروری چیز کو اس طرح ضبط میں لاتے کہ ہمارے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دین کے بھی خادم ہوتے۔لیکن ہوتا یہ ہے کہ جب بچے ہوش سنبھالتے ہیں تو وہ فلمی گانے تو یاد کر لیتے ہیں لیکن اگر انہیں کہا جائے کہ تم قرآن کریم کی کوئی سورۃ سناؤ تو وہ انہیں یاد نہیں ہو گی۔مگر اس کے باوجود لوگ اسلامی حکومت کا قیام چاہتے ہیں۔گویا وہ زور تو اس بات پر لگاتے ہیں کہ کسی طرح شیطانی حکومت کا قیام ہو لیکن منہ سے اسلامی حکومت کے قیام کے خواہش مند ہوتے ہیں۔دنیا میں جو کچھ کسی کے پاس ہوتا ہے وہی دوسرے کو دیتا ہے۔میرے پاس فلمی گانے تو ہیں نہیں، میں ایک مذہبی آدمی ہوں میرے پاس صرف قرآن اور حدیث ہے۔اس لئے میری نصیحت یہی ہے کہ اپنی مصروفیات میں سے کچھ وقت نکال کر قرآن کریم اور احادیث کے مطالعہ میں بھی صرف کرو۔اگر میری اس نصیحت پر عمل کرتے ہوئے آپ روزانہ کچھ وقت قرآن کریم اور احادیث کے مطالعہ میں لگائیں گے اور اس کے احکام پر عمل کریں گے تو آپ لوگوں کے گھروں میں خود بخو د اسلامی حکومت قائم ہو جائے گی۔اور جب آپ لوگوں کے گھروں میں اسلامی حکومت کا قیام ہو جائے گا تو ملک میں اسلامی حکومت کے قیام کے لئے آپ کو زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ایک دفعہ میں کراچی گیا تو وہاں ایک موقع پر مجھ سے کہا گیا کہ میں اسلامی حکومت کے قیام کے متعلق