زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 302
زریں ہدایات (برائے طلباء) 302 جلد چهارم اپنا نظریہ بیان کروں۔اُس وقت میں نے یہی کہا تھا کہ جب میں مسلمان ہوں تو میں اسلامی حکومت کیوں نہ مانگوں گا۔اگر میں اسلامی حکومت نہ چاہتا تو ہجرت کر کے پاکستان میں کیوں آتا۔میرا پاکستان میں آنا ہی بتاتا ہے کہ میں اسلامی حکومت کے قیام کا خواہش مند تھا۔لیکن کیا اسلامی حکومت میرے بنانے سے بنتی ہے۔دنیا میں ہم کوئی عمارت بناتے ہیں تو اس کے کمرے آسمان سے گھڑے گھڑائے نہیں آ جاتے۔بلکہ ہم اینٹیں لیتے ہیں اور انہیں ایک خاص طریق سے نیچے اوپر رکھ دیتے ہیں جس سے ایک مشکل بن جاتی ہے اور ہم کہتے ہیں یہ برآمدہ ہے۔پھر ہم اینٹوں کو ایک اور طریق سے نیچے اوپر رکھتے ہیں جس سے ایک اور شکل بن جاتی ہے اور ہم کہتے ہیں یہ کمرہ ہے۔اسی طرح ہم کونے پر ایک کمرہ بناتے ہیں اور کہتے ہیں یہ بیٹھک ہے۔ایک کمرہ بناتے ہیں اور اس میں کچھ طاقچے لگا دیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ غسل خانہ ہے۔پھر اگر ہم عمارت پر کچی اینٹیں لگاتے ہیں تو مکان کچا بنتا ہے اور اگر پکی اینٹیں لگاتے ہیں تو مکان کا بنتا ہے۔حکومت بھی ایک عمارت ہے جس کی اینٹیں افراد ہیں۔حکومت کی عمارت افراد کے ساتھ ہی بنتی ہے۔کیا تم نے کبھی جنگلوں اور صحراؤں میں بھی کوئی حکومت دیکھی ہے؟ حکومت شہروں میں ہوتی ہے اس لئے حکومت نام ہے مجموعہ افراد کا۔جب افرا دل جل کر کام کرتے ہیں تو ہم کہتے ہیں یہاں حکومت قائم ہے۔اور اگر تمام افراد مسلمان ہوں تو ان سے بنی ہوئی حکومت غیر مسلم کیسے ہو سکتی ہے۔مسلمان افراد سے جو حکومت بنے گی چاہے کوئی اسے غیر مسلم بنانے کے لئے کتنا زور لگائے کہ اس عمارت کو کچی ثابت کرے وہ پکی عمارت ہی کہلائے گی۔اسی طرح کچی اینٹوں سے جو عمارت بنے گی چاہے کوئی کتنا زور لگائے کہ اسے کچی عمارت ثابت کرے وہ کچی عمارت ہی کہلائے گی۔اسی طرح اگر افراد مسلمان ہوں گے تو ان سے جو حکومت بنے گی چاہے اس کا نام کچھ رکھ لو وہ بہر حال اسلامی حکومت ہوگی۔جب حکومت کے بنانے والے لا الہ الا اللہ کہنے والے ہوں گے تو وہ حکومت غیر اسلامی کس طرح ہو سکتی ہے۔پس اسلامی حکومت کا قائم کرنا ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔