زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 300
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 300 جلد چهارم طرف مائل ہوتی ہے تو وہ صرف یہی سوچتا ہے کہ وہ کوئی نوکری کر لے، اپنی تجارت کو بڑھا لے یا زراعت میں ترقی کر لے لیکن وہ کبھی نہیں سوچتا کہ وہ کوشش کرے کہ اس کے دل میں خدا تعالیٰ اور محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت ترقی کر جائے۔اس وقت ہمارے ملک میں محض رسم کے طور پر یہ جوش پیدا ہو چکا ہے کہ ملک میں اسلامی حکومت قائم ہونی چاہئے۔حالانکہ سب سے بڑا ملک انسان کا اپنا قلب اور اس کا دماغ ہے مگر ان میں اسلامی حکومت قائم نہیں کی جاتی۔گویا باہر تو ہم اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں مگر دل اور دماغ میں اسلامی حکومت قائم کرنے کی طرف ہماری توجہ نہیں۔ہم یہ تو چاہتے ہیں کہ کراچی میں اسلامی حکومت قائم ہو جائے۔ہم یہ تو چاہتے ہیں کہ سابق پنجاب میں اسلامی حکومت قائم ہو جائے ، ہم یہ تو چاہتے ہیں کہ سابق سرحد میں اسلامی حکومت قائم ہو جائے ، ہم یہ تو چاہتے ہیں کہ سابق بلوچستان میں اسلامی حکومت قائم ہو جائے ، ہم یہ تو چاہتے ہیں کہ ایسٹ پاکستان میں اسلامی حکومت قائم ہو جائے لیکن ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہمارے دل و دماغ میں بھی کہ جس پر ہمارا اپنا قبضہ ہے اسلامی حکومت قائم ہو۔کیونکہ اگر ہم یہ کہیں کہ ہمیں اپنے دل و دماغ میں اسلامی حکومت قائم کرنی چاہئے اور پھر باوجود اس کے کہ ایسا کرنا ہمارے امکان میں ہے ہم اس میں کامیاب نہ ہوں تو دوسرا شخص اعتراض کرے گا کہ اسے ملک میں تو اسلامی حکومت قائم کرنے کا فکر ہے لیکن ابھی تک یہ اپنے دل اور دماغ میں بھی اسلامی حکومت قائم نہیں کر سکا۔اس اعتراض سے بچنے کے لئے اپنے دل و دماغ کو چھوڑ کر ملک میں اسلامی حکومت کے قیام کا شور مچایا جا رہا ہے۔اگر ہم باہر نکل کر دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ کوئی شخص تاجر ہے، کوئی زمیندار، کوئی صنعت کار ہے، کوئی پروفیسر ہے، کوئی طالب ہے اور رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ 1 یعنی تم میں سے ہر شخص حاکم ہے اور جو شخص بھی اس کے تابع ہے اس کے متعلق اس سے سوال کیا جائے گا کہ آیا اس نے اسے اسلام کی تعلیم پر چلایا ہے یا نہیں۔مثلاً باپ ہے قیامت کے دن اس سے سوال کیا جائے گا