زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 290
زریں ہدایات (برائے طلباء ) سکہ دوسروں کے دلوں پر بٹھا دے گی۔290 جلد چهارم لوگ کہتے ہیں کہ احمدی جماعت کے لوگ سفارشوں کی وجہ سے ملازمتوں میں داخل ہو جاتے ہیں ان کی یہ بات بالکل غلط ہے۔احمدیوں کے ملازمتوں میں لئے جانے کی وجہ صرف ان کے اخلاق ہیں سفارشات نہیں۔پس اگر تم اپنے استادوں سے تعاون کرو گے تو آئندہ زندگی میں تمہاری ترقی میں کوئی روک پیدا نہیں ہوگی۔اور اگر ایک افسر متعصب ہونے کی وجہ سے کسی وقت تمہیں رد بھی کر دے گا تو دوسرا افسر تمہارے اخلاق دیکھ کر تمہیں جگہ دے دے گا۔ایک دفعہ ایک پوسٹ کے لئے ایک احمدی دوست نے درخواست دی لیکن جب وہ کمیشن کے سامنے پیش ہوا تو اس کے بعض ممبران نے کہا چونکہ یہ احمدی ہے اس لئے ہم اسے یہ جگہ نہیں دے سکتے۔کمیشن کا ایک انگریز بھی ممبر تھا اس نے کہا تم اس کو موقع تو د داور دیکھو کہ یہ اپنی قابلیت کی وجہ سے اس جگہ کا مستحق ہے یا نہیں۔اس کے کہنے پر انہوں نے اس احمدی کو موقع دے دیا اور بعد میں کمیشن کے غیر احمدی ممبروں نے بھی کہا کہ واقعہ میں یہی شخص اس پوسٹ کا حقدار تھا۔پس اگر تم ایک جگہ تعصب کی وجہ سے رو کر دیے جاؤ گے تو دوسری جگہ تمہارے اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے تمہیں لے لیا جائے گا۔تم دیکھ لو چودھری ظفر اللہ خان صاحب کو سر میاں فضل حسین صاحب نے ہی آگے کیا تھا اور پھر بڑے زور سے آگے کیا تھا۔گورنمنٹ نے کسی کام کے سلسلہ میں میاں فضل حسین صاحب کو افریقہ بھیجنا تھا انہوں نے کہا میں اس شرط پر افریقہ جانا منظور کرتا ہوں کہ تم میری جگہ چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کو لگاؤ۔پھر جب مستقل ممبری کا سوال آیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے پاس کئی غیر احمدی آئے اور انہوں نے مجھے کہا کہ کیا آپ اس کا فر کو ممبر بنا ئیں گے؟ میں نے کہا مجھے تو یہی کافر اس کام کے قابل نظر آتا ہے۔تمہاری نظر میں اس سے بڑھ کر کوئی موزوں آدمی ہو تو اس کا نام بتا دو۔وہ کہنے لگے کہ یہی سوال تھا جو مجھے ان سے چھڑا لیتا تھا کیونکہ اس کے جواب میں ہر شخص اپنا نام ہی لیتا تھا۔غرض کیریکٹر نہ ہونے کی وجہ سے قوم کئی قسم کی خوبیوں سے محروم ہو جاتی ہے۔اگر تم اپنا