زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 291
زریں ہدایات (برائے طلباء) 291 جلد چهارم کیریکٹر بنا لو گے تو وہی کیریکٹر تمہارے لئے نیک نامی کا لیبل ہوگا اور مستقبل میں تمہارا نام روشن کر دے گا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ تم اپنے آپ کو تعلیم الاسلام کے لیبل کے مطابق بناؤ۔اور یہ کوئی مشکل بات نہیں کیونکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ کوئی اسلامی فرقہ جو اپنے اخلاق کی بنیاد قرآن کریم پر رکھتا ہے تم اس میں شامل ہو جاؤ۔مخالفت محض چند عقائد کی بناء پر ہے لیکن جہاں تک اسلام کا سوال ہے سارے فرقے مسلمان ہیں۔تمہیں یہ بحث کرنے والے تو نظر آئیں گے کہ خدا تعالیٰ جھوٹ بول سکتا ہے یا نہیں۔چنانچہ دیو بندیوں اور اہلحدیث کی بہت سی کتابیں اس مضمون پر لکھی گئی ہیں لیکن تمہیں ایسا کوئی فرقہ نظر نہیں آئے گا جو یہ کہے کہ کوئی مسلمان جھوٹ بول سکتا ہے یا نہیں۔پس اگر قرآن کریم پر بنیا د رکھی جائے تو تمام فرقوں میں بہت تھوڑا فرق رہ جاتا ہے۔اور اصل چیز قرآن ہی ہے جس پر عمل کرنا ہر مسلمان کا اولین فرض ہے۔بہر حال جیسے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ باتِهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمُ 7 یعنی میرے سب صحابہ شستاروں کی مانند ہیں تم ان میں سے کسی کی بھی پیروی کرو تم ہدایت پا جاؤ گے۔اسی طرح تم کسی اسلامی فرقہ کے پیچھے چلو تم اصولی اور بنیادی امور میں غلطی نہیں کرو گے۔بے شک عقائد میں ہمارا دوسرے فرقوں سے کچھ نہ کچھ اختلاف ضرور ہو گا لیکن عمل میں آکر یعنی نماز، روزہ، زکوۃ اور حج میں ہمارا ان سے کوئی اختلاف نہیں اور اپنی عملی زندگی میں ہم نے کوئی ایسا اصول نہیں بنایا جس پر اس سے پہلے کسی بزرگ نے عمل نہ کیا ہو۔پس چند عقائد اور بعض مائنر ڈیٹیلر (Minor Details) کے علاوہ سب اسلامی فرقوں کا آپس میں اتحاد ہے۔اس وقت جو اختلاف نظر آتا ہے وہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے ہمارے ہاں رواج تھا کہ لوگ شادی بیاہ پر نیو تا دیتے تھے اور بد قسمتی سے یہ رواج بھی تھا کہ جتنا کسی نے پہلے دیا ہو کم از کم اتنا ضرور دیا جائے۔ایک شادی کے موقع پر کسی بخیل نے میں روپے نیو تا دینا تھا اور اس قدر رقم دینا اسے دوبھر معلوم ہو رہا تھا۔وہ باہر نکلا تو کوئی غریب آدمی بھی باہر کھڑا تھا جو اسی فکر میں تھا کہ نیوتا