زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 289
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 289 جلد چهارم پر انہوں نے قبضہ کر لیا۔ہم نے بھی اس زمین کو واپس لینے کی کوشش کی۔کاغذات مسٹر ایمرسن کے پاس تھے وہ مالیات کے ماہر تھے۔انہیں ہمارے ایک دوست ملے تو انہوں نے کہا میں نے یہ کا غذات چھ ماہ سے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔میں نے اپنا پورا زور لگایا ہے کہ میرا ہاتھ پڑے تو میں آپ سے یہ زمین چھین لوں لیکن چھ ماہ تک غور کرنے کے باوجود میرا کہیں ہاتھ نہیں پڑا۔اس لئے میں نے زمین آپ کو واپس دے دی ہے۔اگر ہمارے ملک کے افراد میں بھی یہی روح پیدا ہو جائے کہ وہ کسی کا حق چھینے کے لئے تیار نہ ہوں تو قلوب کی بے اطمینانی بڑی حد تک دور ہو سکتی ہے۔اس کا لج میں جو غیر احمدی طالب علم آئے ہیں ان سے میں کہتا ہوں کہ اگر تم اس کا لج میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آئے ہو تو صرف اسلام سیکھنے کے لئے۔ورنہ اگر دنیوی ملازمتوں کو دیکھا جائے تو ہماری جماعت کے لئے کئی قسم کی مشکلات ہیں۔گو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ مختلف قسم کی مشکلات کے باوجود احمدی گورنمنٹ سروسز میں عام طور پر منتخب ہو جاتے ہیں اور یہ صرف ہمارے تعلیمی اداروں کی اخلاقی برتری کی وجہ سے ہے۔دوسری جگہوں میں لڑکے سینما د یکھتے ہیں، بعض شراب بھی پیتے ہیں اور اس طرح اپنے وقت کو لغویات میں ضائع کر دیتے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایک انگریز پادری نے یہ کہا تھا کہ جب تک اس ملک سے حقہ کی عادت نہیں جائے گی یہ ملک دنیا کی نظروں میں عظمت حاصل نہیں کر سکتا۔اسی طرح میں یہ کہوں گا کہ جب تک سینما دیکھنے اور ریڈیو کے گانے سننے کی عادت نہیں جائے گی ہمارے ملک کو ترقی حاصل نہیں ہو گی۔لیکن جو نوجوان ان عادتوں سے بچائے جائیں گے وہ ترقی حاصل کرلیں گے۔یورپین لوگوں نے تعلیمی اداروں کے متعلق کئی قسم کے قواعد بنائے ہوئے ہیں اور انہوں نے طلباء پر بعض خاص پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں۔لیکن ہمارا ملک ابھی اس بارہ میں بہت پیچھے ہے جس کی وجہ سے طلباء اخلاقی لحاظ سے بلند معیار حاصل نہیں کر سکتے۔اس کے مقابلہ میں جو تعلیم تمہیں یہاں حاصل ہوگی وہ تمہیں ہر سوسائٹی اور ہر مجلس میں ایک امتیازی مقام عطا کرے گی اور تمہارا