زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 288

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 288 جلد چهارم وہ ایک بڑے آدمی تھے لیکن انہیں جھوٹ بولنے کی عادت پڑی ہوئی تھی۔دو دفعہ انہیں ٹوکا گیا تو انہوں نے برداشت کر لیا لیکن بعد میں انہوں نے کہا کہ جب میں مجلس کو گرمانے کے لئے مبالغہ آمیز بات کرتا ہوں تو تمہیں کیا حق ہے کہ مجھے ٹو کو۔لیکن تم اگر چاہو تو اس قسم کی عادتوں کو ترک کر سکتے ہو اور اس طرح ہماری قوم ترقی کر سکتی ہے۔تم دیکھتے ہو کہ ہمارے ملک میں بے اطمینانی پائی جاتی ہے اور اس بے اطمینانی کی یہی وجہ ہے کہ لوگوں کے قول اور فعل میں فرق ہے۔مجھے یاد ہے جب میں یورپ گیا تو رستہ میں کچھ روز ہم دمشق میں بھی ٹھہرے۔ہمارے خلاف کسی نے ایک اشتہار شائع کیا اس کے جواب میں ہم نے بھی ایک اشتہار شائع کیا۔پولیس نے ہمیں اطلاع دی کہ آپ کا وہ اشتہا ر ضبط کر لیا گیا ہے۔اُن دنوں وہاں دو گورنر ہوا کرتے تھے۔ایک فرانسیسی اور دوسرا شامی۔دوسرے دن میں فرانسیسی گورنر سے ملنے گیا تو میں نے ان سے اشتہار کا ذکر کر دیا کہ وہ دوسرے لوگوں کے ایک اشتہار کے جواب میں تھا لیکن پولیس نے چھاپہ مار کر اسے ضبط کر لیا ہے۔اس پر وہ کہنے لگا یہ بری بات ہے لیکن دراصل اس بات کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔مجھے افسوس ہے کہ یہ حکم شامی گورنر کا ہے۔آپ کل اپنے کسی آدمی کو بھجوائیں تو میں ان سے کہوں گا کہ وہ اس بارہ میں مناسب غور کریں۔چنانچہ دوسرے دن میرا سیکرٹری وہاں چلا گیا تو شامی گورنر نے کہا یہ دراصل دوسرے گورنر کی شرارت ہے میں اس کی تحقیقات کروں گا۔جب میرے سیکر ٹری باہر آئے تو گورنر کی لڑکی بھی باہر آئی اور وہ ہنس کر کہنے لگی میرا باپ جھوٹ بولتا ہے میں نے خود سنا ہے کہ وہ اس قسم کا آرڈر دے رہا تھا۔غرض بے اطمینانی اس قسم کی باتوں سے پھیلتی ہے۔انگریز کتنا ہی برا ہولیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس قوم کا ایک مخصوص کیریکٹر تھا۔ہماری ایک زمین تھی جو صد را انجمن احمد یہ نے خرید کی ہوئی تھی۔وہ افتادہ زمین تھی کسی کام نہیں آتی تھی۔وہاں لوگ کھیلتے اور میلے کر لیتے تھے۔چونکہ وہ جگہ خالی تھی اس لئے مخالفوں نے شور مچایا کہ یہ پبلک کی جگہ ہے اور اس