زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 270
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 270 جلد چهارم فرمایا یہ بہت بری بات ہے۔اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ویسے بھی مُردوں پر رونا درست نہیں۔اس سے قوم میں سے بہادری اور جرات کا احساس جا تا رہتا ہے اور اس کی ہمت گرتی ہے۔جاؤ انہیں منع کرو۔چنانچہ حضرت ابو ہریرہ ان کے پاس گئے اور کہا رسول کریم فرماتے ہیں بین ختم کرو اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔عورتوں کے اندر جوش پایا جاتا تھا وہ اپنے مُردوں کو یاد کر رہی تھیں اور رورہی تھیں۔مہین میں ایک دوسرے کو دیکھ کر بھی لوگ رونے لگ جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جاؤ مرے ہمارے رشتہ دار ہیں، ہمارے دل دکھے ہوئے ہیں اور ہم رو رہی ہیں تم منع کرنے والے کون ہوتے ہو۔حضرت ابو ہریرہ واپس آگئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے ان عورتوں سے کہا تھا کہ وہ ماتم کرناختم کر دیں مگر وہ رکھتیں نہیں۔آپ نے فرما یا أُحُبُّ التَّرَابَ عَلَى وُجُوهِهِنَّ 2 اس فقرہ کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ تو ان کے منہ پر مٹی ڈال لیکن محاورہ میں اس کے یہ معنی ہیں کہ تو انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دے۔ہمارے ہاں بھی اس موقع پر کہتے ہیں "کھ اب اس کا یہ مطلب نہیں کہ عملی طور پر مٹی مونہوں پر ڈالی جائے بلکہ اس کا صرف یہ مطلب ہوتا ہے کہ اسے اپنی حالت پر چھوڑ دو۔یہی محاورہ عربی زبان میں بھی پایا جاتا ہے کہ ان کے مونہوں پر مٹی ڈالو یعنی انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دو۔حضرت ابو ہریرۃ نے اس کا مفہوم نہ سمجھا اور لفظی ترجمہ کی بناء پر اپنی جھولی میں مٹی بھرنی شروع کی۔حضرت عائشہ نے انہیں جھولی میں مٹی بھرتے دیکھ لیا اور فرمایا تم یہ کیا حماقت کر رہے ہو ؟ رسول کریم ﷺ کا مطلب یہ تو نہیں تھا کہ واقعہ میں عورتوں کے مونہوں پر مٹی ڈالی جائے۔مان لیا کہ وہ غلطی کا ارتکاب کر رہی ہیں لیکن رسول کریم ﷺ کا مطلب بھی یہ نہیں تھا کہ ان کے مونہوں پر مٹی ڈالی جائے بلکہ آپ کا مطلب صرف یہ تھا کہ تو انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دے۔اگر حضرت عائشہ حضرت ابو ہریرہ کو جھولی میں مٹی ڈالتے ہوئے نہ دیکھتیں تو یہ روایت آگے چلی جاتی۔پھر اگر حضرت ابو ہریرہ لفظی روایت کر دیتے تو بعض لوگ اس کے معنی سمجھ لیتے اور بعض نہ سمجھتے۔لیکن اگر آپ معنوی روایت کر دیتے تو اس کا مفہوم سمجھنے میں