زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 269
زریں ہدایات (برائے طلباء) 269 جلد چهارم لہجہ اور ٹون میں فرق پڑنے سے ان میں فرق پڑنا لازمی ہوتا ہے۔پس اس میں شبہ نہیں کہ غلطی کا امکان اس میں بھی موجود ہے لیکن یورپ والوں نے ہم پر سخت ظلم کیا ہے۔اگر واقعات ان سے تعلق رکھتے ہوں تو وہ انہیں صحیح اور درست سمجھتے ہیں لیکن اگر وہی بات مسلمانوں کے متعلق ہو تو کہتے ہیں یہ چیز سماعی ہے اس لئے اسے درست تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔مسلمانوں کا علم حدیث جس کو علم کی حد کے اندر رکھنے کے لئے بہت بڑی محنت اور کوشش کی گئی ہے اس کے متعلق بہت سے قوانین مرتب کئے گئے ہیں جن کے ذریعہ احادیث کو پر کھا جاتا ہے۔اس کے متعلق یورپین مصنفین کہتے ہیں کہ یہ کوئی علم نہیں اس کی بنیا د سماع پر ہے اور جو چیز ساعی ہو وہ قابل اعتبار نہیں ہوتی۔لیکن انجیل جس کے راوی خود کہتے ہیں کہ یہ مسیح سے سینکڑوں سال بعد مرتب کی گئی ہے اس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ مسیح کا قول ہے۔اب دیکھ لو جس کے متعلق کوئی احتیاط نہیں کی گئی وہ تو ان کے نزدیک یقینی اور قطعی ہے اور جس چیز کے متعلق ہر طرح کی احتیاط برتی گئی وہ محض سماعی باتیں ہیں اسے علم نہیں کہا جا سکتا۔لیکن ان کے اس تعصب کو نظر انداز کرتے ہوئے ہمیں یہ ماننے سے انکار نہیں کہ سماعی باتوں میں غلطی ہو سکتی ہے۔کہنے والے کا کوئی مطلب ہوتا ہے اور سننے والا کچھ سمجھ لیتا ہے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ایک جنگ میں کچھ آدمی مارے گئے۔ان میں رسول کریم ﷺ کے چچیرے بھائی حضرت علی کے بڑے بھائی بھی شامل تھے۔مدینہ میں یہ رواج تھا کہ مرنے والوں کا ماتم کیا جاتا تھا اور اس کے متعلق ان کا یہ خیال تھا کہ ماتم کرنے سے مرنے والے کی روح خوش ہوتی ہے۔مسلمان ابھی حدیث العہد تھے اور ان سے یہ احساس پورے طور پر مٹا نہیں تھا۔جب عورتوں نے ان لوگوں کی موت کی خبر سنی تو انہوں نے سمجھا ہمیں ماتم کرنا چاہئے تاکہ دوسرے لوگ یہ سمجھیں کہ یہ لوگ اپنے مُردوں کی قدر کرتے ہیں۔چنانچہ بین شروع ہوا۔رسول کریم ﷺ نے شور سنا تو دریافت فرمایا یہ کیا ہے؟ صحابہ نے بتایا کہ عورتیں جنگ میں مرنے والوں پر رو رہی ہیں۔آپ نے