زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 271

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 271 جلد چهارم ذریعہ کوئی اختلاف نہ ہوتا۔بلکہ سب مسلمان یہی کہتے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب عورتیں لیکن کریں تو ان کے مونہوں پر خوب مٹی ڈالو اور حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے کہ میں نے آپ کے ارشاد پر خود مٹی ڈالی ہے اور اس طرح مسلمانوں میں ایک نا پسندیدہ رواج پڑ جاتا اور دوسرے مذاہب کے لوگ ہنستے اور مذاق اڑاتے کہ یہ کیا اسلام ہے جس میں عورتوں کے مونہوں پر مٹی ڈالی جاتی ہے۔پس تاریخ کے متعلق یہ مانی ہوئی بات ہے کہ اس میں اس قسم کی غلطی کا پایا جانا ممکن ہے لیکن ہمیں اس بات کا افسوس ہے کہ یورپین مصنفین اپنے متعلق اور قوانین وضع کرتے ہیں اور ہمارے متعلق اور قوانین بتاتے ہیں۔یہ طریق غلط ہے۔لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ سماعی باتوں میں فرق ضرور ہوتا ہے اور سننے والے کچھ کا کچھ سمجھ لیتے ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی ایک طریق ایسا بھی ہے کہ جس کے یعہ غلطی سے بچا جا سکتا ہے۔اور وہ طریق یہ ہے کہ روایت میں غلطی راوی کی وجہ سے پڑتی ہے لیکن ایک شخص کے متعلق جب ہم کئی واقعات سنتے ہیں تو اس کے متعلق ہم معلوم کر لیتے ہیں کہ اس کا کیریکٹر یہ ہے۔اور جب کسی کے کیریکٹر کا علم ہو جائے تو علم النفس کے ذریعہ ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ کون سا واقعہ سچا ہے اور کون سا غلط ہے۔اگر کوئی واقعہ اس ا کے کیریکٹر کے مطابق ہے تو ہم کہیں گے یہ واقعہ سچا ہے اور اگر کوئی واقعہ اس کے کیریکٹر کے خلاف ہے تو ہم کہیں گے یہ واقعہ غلط ہے۔مثلا اگر ہمیں معلوم ہو جائے کہ فلاں شخص دیانت دار ہے تو اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ وہ کسی کا روپیہ لے کر بھاگ گیا ہے تو ہم کہیں گے یہ بات غلط ہے، یہ محض دشمنی کی وجہ سے کہا گیا ہے ورنہ یہ بات اس کے کیریکٹر کے خلاف ہے۔گویا جب ہم سائیکالوجی کے نیچے اسے لائیں گے تو یہ ایک علم بن جائے گا۔چنانچہ اسلامی تاریخ پر میرا ایک لیکچر چھپا ہوا موجود ہے جس کا نام ” اسلام میں اختلافات کا آغاز ہے۔میں نے اس لیکچر میں اس بات پر بحث کی ہے کہ اسلام میں اختلافات کا آغاز کس طرح ہوا۔اس لیکچر کے صدر پروفیسر سید عبد القادر صاحب تھے۔میں نے ان کی صدارت میں مارٹن ہسٹا ریکل سوسائٹی اسلامیہ کالج لاہور میں تقریر کی اور اپنے نقطہ نگاہ