زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 265
زریں ہدایات (برائے طلباء ) وہ علم نہیں۔265 جلد چهارم بعض لوگوں کے نزدیک شاید یہ تعریف بعض علوم پر چسپاں نہ ہو سکے۔مثلاً تاریخ ہے۔تاریخ کا علم بھی علم کہلاتا ہے لیکن بظا ہر قانون قدرت اس کی تائید نہیں کرتا۔علم جغرافیہ کے ساتھ قانون قدرت کی دلیل موجود ہے۔حساب کے ساتھ قانونِ قدرت کی دلیل موجود ہے۔علم النفس کے ساتھ قانونِ قدرت کی دلیل موجود ہے۔ڈاکٹری کے ساتھ قانونِ قدرت کی دلیل موجود ہے۔لاء (LAW) کے ساتھ قانونِ قدرت کی دلیل موجود ہے۔اس کے شواہد اس زمانہ میں موجود ہیں۔وہ حکومت موجود ہے جس نے قانون مقرر کیا ہے۔پھر عوام موجود ہیں جو اس کے نگران ہیں۔پھر حج موجود ہیں جن کا کام ملک میں قانون کو رائج کرنا ہے لیکن تاریخ اس بات کا نام ہے کہ فلاں وقت فلاں جگہ پر فلاں واقعہ ہوا۔اب بظاہر یہ کہا جا سکتا ہے کہ تاریخ شواہد قدرت کی محتاج نہیں۔لیکن اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ علم تاریخ بھی شواہد قدرت کا ویسے ہی محتاج ہے جیسے دوسرے علوم اس کے محتاج ہیں اگر ہم شواہد قدرت کو نکال دیں تو علم تاریخ محض جہالت اور قصوں کا مجموعہ رہ جاتا ہے۔مثلاً الف لیلہ ہے۔اس میں بعض واقعات موجود ہیں۔"کلیلہ و دمنہ ہے۔اس میں بھی بعض قصے موجود ہیں لیکن ہم انہیں تاریخ نہیں کہتے۔ہاں ایڈورڈ گبن کی کتاب The Decline And Fall of The Roman Empire کو تاریخ کہتے ہیں۔ابن خلدون کی لکھی ہوئی کتاب کو تاریخ کہتے ہیں۔ابن اثیر کی لکھی ہوئی کتاب کو تاریخ کہتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ "کلیلہ و دمنہ “ اور ” الف لیلہ کی باتوں کے پیچھے حقیقت اور ظاہری شواہد موجود نہیں لیکن ان کتابوں میں جن واقعات کا ذکر کیا گیا ہے ان کے پیچھے حقیقت اور ظاہری شواہد موجود ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تاریخ دان بھی بسا اوقات غلطی کر جاتے ہیں لیکن تاریخ دانوں کے غلطی کر جانے کی وجہ سے خود علم پر کوئی حرف نہیں آتا۔حساب دان بھی بعض اوقات غلطی کر جاتا ہے۔انجینئر بھی روزانہ غلطیاں