زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 264

زریں ہدایات (برائے طلباء) 264 جلد چهارم تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطاب مؤرخہ 6 دسمبر 1954ء کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کا افتتاح فرمایا۔اس موقع پر آپ نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل تقریر فرمائی: آج تعلیم الاسلام کالج کے افتتاح کی تقریب کے سلسلہ میں مجھے یہاں بلایا گیا ہے جیسا کہ اس کالج کے نام سے ظاہر ہے اس کے بنانے والوں کی غرض یہ تھی کہ اس کالج میں طلباء اسلام کی تعلیم سیکھیں یعنی وہ یہاں آکر جہاں دنیوی علوم حاصل کریں وہاں وہ قرآن کریم کے پیش کردہ علوم کو بھی حاصل کریں۔بعض لوگ نادانی اور جہالت کی وجہ سے یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید قرآن کریم دوسرے علوم کے سیکھنے سے روکتا ہے حالانکہ قرآن کریم اس تعلیم سے بھرا پڑا ہے کہ انسان کو خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین قدرت کا زیادہ سے زیادہ علم اور تجربہ حاصل کرنا چاہئے۔اور علم نام ہی اس چیز کا ہے جس کو حقیقت اور شواہد سے ثابت کیا جا سکے۔جس چیز کو قوانین قدرت کی مدد سے ثابت نہ کیا جاسکے وہ جہالت، قیاسات اور وہم ہوتا ہے۔اس کا نام علم نہیں رکھا جا سکتا۔علم کے معنی ہوتے ہیں جاننا اور دوسری چیز کے لئے دلیل ہونا۔حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے۔اِنَّهُ لَعِلْمُ لِلسَّاعَةِ 1 کہ وہ قیامت کے لئے ایک علامت اور دلیل ہیں۔پس علم کے معنی ہیں وہ چیز جس کے ذریعہ سے دوسری باتیں ثابت کی جاسکیں اور ثابت وہی چیز کی جاسکتی ہے جس کے لئے ظاہری شواہد موجود ہوں۔پس جو چیز قانون قدرت کی تائید رکھتی ہے وہ علم ہے۔اور جو چیز قانون قدرت کی تائید نہیں رکھتی