زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 266
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 266 جلد چهارم کرتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ تاریخ دانوں کی غلطیوں کی وجہ سے علم تاریخ کو علم نہ کہا جائے۔ہندوستان کا ایک مشہور واقعہ ہے۔گورنمنٹ نے بمبئی کی پورٹ کو گہرا کرنے کا منصو بہ تیار کیا اور اس کے لئے ایک نقشہ بنایا گیا اور کروڑوں کی مشینری اس غرض کے لئے درآمد کی گئی۔لیکن کلکولیشنز (Calculations) میں غلطی ہو گئی جس کی وجہ سے یہ کروڑوں کی مشینری بیکار ہو گئی اور اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا جا سکا۔پس اندازہ غلط ہو جانے یا ماہرین سے غلطی ہو جانے کی وجہ سے یہ کہنا کہ وہ علم نہیں غلط ہے۔مثلاً حساب کو اس لئے علم نہیں کہتے کہ اس میں کوئی غلطی نہیں کر سکتا بلکہ اسے اس لئے علم کہا جاتا ہے کہ قواعد کے مطابق اگر عمل کیا جائے تو اس میں امکان صحت موجود ہے اور جس علم میں امکان صحت موجود ہے اسے ہم علم کہہ دیتے ہیں۔اور جس میں امکان صحت موجود نہ ہوا سے ہم علم نہیں کہتے۔تاریخ کو بھی ہم اس لئے علم کہتے ہیں کہ اس میں امکان صحت موجود ہے۔تاریخ کے علم کو صحیح طور پر استعمال نہ کرنے کی وجہ سے مسلمانوں نے بہت نقصان اٹھایا ہے۔ایک وقت آیا جب مسلمانوں نے اپنے آباؤ اجداد کی باتوں کو بھلا دیا اور ان کی تاریخ یورپین مصنفین نے لکھی۔چونکہ ان کے سامنے یورپ کا بڑھتا ہوا اقتدار اور قومی ترقی تھی اس لئے انہوں نے سمجھا کہ علم تاریخ کو بھی چاہئے کہ وہ ان کے اقتدار میں مدد کرے۔اور وہ مدداسی طرح کر سکتا ہے کہ دشمن کا منہ اتنا زیادہ سیاہ کر کے دکھایا جائے کہ قوم اس کی طرف رغبت نہ کرے۔اور اپنی قوم کے کردار کو شاندار کر کے دکھایا جائے تا نوجوانوں کی ہمت بڑھے۔پس ان کے لئے یہ علم ، علم تھا۔ان کی ترقی جھوٹ کے ذریعہ ہی ہو سکتی تھی اس لئے انہوں نے واقعات کو غلط طور پر پیش کیا۔اگر وہ جھوٹ نہ بولتے اور واقعات کو غلط طور پر پیش نہ کرتے تو وہ ترقی نہیں کر سکتے تھے۔پس یہ تاریخ ان کے لحاظ سے علم تھا کیونکہ ان کے مد نظر یہ تھا کہ اس کے پڑھنے سے مسلمانوں کی بداخلاقی ، جہالت اور ذلت نظر آئے اور یورپ کی ترقی دوسری اقوام کو مسحور کر دے۔لیکن ہمارے نزدیک یہ جہالت تھی کیونکہ یہ محض جھوٹ تھا۔اس کا اصل واقعات سے قریب کا تعلق بھی نہیں تھا۔