زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 260

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 260 جلد چهارم دیکھ لیا ہے۔کسی نے پیٹ پر ہاتھ مار کر سمجھ لیا تھا کہ میں نے ہاتھی دیکھ لیا ہے اور کسی نے کان پر ہاتھ مار کر مجھ لیا تھا کہ میں نے ہاتھی دیکھ لیا ہے۔تمہیں تعلیم الاسلام ہائی سکول میں داخل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تم اسلام کو سمجھو، قرآن کو سمجھو، محمد رسول اللہ ﷺ کے احکام کو سمجھو اور ان کے مطابق اپنی زندگی بسر کرنے کی کوشش کرو اور عقل کا دامن اپنے ہاتھ سے کبھی نہ چھوڑو۔یادرکھو خدا عقل کا محتاج نہیں لیکن عقل کو اس نے ہمارے علم کا ذریعہ بنایا ہے۔جہاں تک خدا تعالیٰ کی ذات کا تعلق ہے وہ عقل کا خالق ہے اس لئے خدا تعالیٰ کا نام اسلام میں عاقل نہیں آتا۔عقل کے معنے ہوتے ہیں کسی چیز کو روکنا۔مثلاً میرے سامنے اس وقت پیالی پڑی ہے۔میری نظر اس کے دائیں بھی پڑتی ہے اور بائیں بھی پڑتی ہے۔لیکن سامنے آ کر رک جاتی ہے اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہاں کوئی چیز پڑی ہے۔اگر میری نظر یہاں نہ رکے تو مجھے پیالی نظر نہ آئے۔پس چونکہ ہم بغیر حد بندی کے کسی چیز کو محسوس نہیں کرتے اس لئے ہمارے لئے عقل کی ضرورت ہے۔لیکن خدا شش جہت سے بلکہ اس سے بھی زیادہ جہتوں سے ہر چیز کو دیکھتا ہے اس لئے اسے کسی روک اور حد بندی کی ضرورت نہیں۔لیکن چونکہ ہمیں ضرورت ہے اس لئے وہ کوئی ایسی بات نہیں کرتا جو عقل کے خلاف ہو۔اگر وہ اس کے خلاف کرے تو یہ ایسی ہی بات ہو گی جیسے کسی گھر کو آگ لگ جائے تو مالک مکان آگ کو بجھانے کی بجائے لوگوں کو پنکھے دے دے کہ وہ اور زیادہ اس آگ کو بھڑ کا ئیں۔یا ڈوبنے والے کو بچانے کی بجائے انسان اس کے سینہ پر پتھر رکھ دے۔جو شخص ڈوبنے والے کے سینہ پر پتھر رکھے گا وہ اسے ڈبو دے گا۔جو شخص آگ لگنے پر کسی کو پنکھے دے گا وہ اس آگ کو بجھائے گا نہیں بلکہ اسے اور زیادہ بھڑکائے گا۔اسی طرح کوئی عقلمند ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ کسی کو روٹی پکانے کے لئے کہے اور اسے لکڑی کی بجائے پانی دے دے۔کوئی عقل مند ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ ڈوبتے کو بچانے کا حکم دے اور اس کے سینہ پر پتھر رکھوا دے۔کوئی عقل مند ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ آگ بجھانے کا حکم دے اور ہاتھوں میں پنکھے پکڑوا دے۔