زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 261

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 261 جلد چهارم اسی طرح خدا بھی یہ نہیں کر سکتا کہ وہ لوگوں کو حکم دے کہ عقل استعمال نہ کرو۔بے شک اس کو عقل کی ضرورت نہیں لیکن ہمیں اس کی ضرورت ہے اور چونکہ ہمیں عقل کی ضرورت ہے اس لئے وہ کوئی حکم ہمیں ایسا نہیں دے سکتا جو عقل کے خلاف ہو۔بعض بے وقوف سائنس دان کہتے ہیں کہ ہم عقل سے خدا کو معلوم کر سکتے ہیں جیسے بعض بے وقوف مولوی یہ کہتے ہیں کہ مذہب کا عقل سے کیا تعلق ہے۔یہ دونوں بے وقوف ہیں۔خدا کو ہم عقل سے دریافت نہیں کر سکتے اور مذہب کو بغیر عقل کے ہم سمجھ نہیں سکتے۔جس طرح دنیا کی تمام معقول باتوں کے سمجھنے کے لئے عقل کی ضرورت ہے اسی طرح مذہب کے سمجھنے کے لئے بھی عقل استعمال کی جاتی ہے۔مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ کوئی انسان محض عقل سے خدا کو پا سکتا ہے۔خدا کے پانے کے لئے مذہب ہمارا رہنما ہے اور مذہب کے سمجھنے کے لئے عقل کا پاسبان ضروری ہے۔ان دونوں حدوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تم دینی تعلیم کے حصول کی کوشش کرو۔خدا نے تمہیں موقع دیا ہے کہ تم اس دین کو جو کہ آخری اور کامل دین ہے سمجھو اور اسے لوگوں کے سامنے پیش کرو۔اگر تم سچے دل سے اور اپنی پوری کوشش اور جدو جہد سے ایک مہینہ بھی قرآن کریم کو غور سے پڑھو اور اسے سمجھنے کی کوشش کرو تو وہ خود بخود تمہاری رہنمائی کرنے لگ جائے گا اور تمہیں آپ ہی آپ نئے سے نئے رستے نظر آنے شروع ہو جائیں گے۔پنجابی میں ایک ضرب المثل ہے کہ گھروں میں آیاں تے سنے توں دیندا ہاں یعنی گھر سے تو میں آیا ہوں اور پیغام تم دے رہے ہو۔بالکل یہی بات خدا تعالیٰ کے متعلق کہی جاسکتی ہے۔جب کوئی شخص خدا سے ملنا چاہے تولا ز ما خدا ہی اسے بتا سکتا ہے کہ تم اس اس طرح مجھے مل سکتے ہو۔وہ خود بخود اس تک کس طرح پہنچ سکتا ہے۔پس وہ سائنس دان پاگل ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا کو اپنی عقل کے زور سے پاسکتے ہیں۔خدا کو خدا کے ذریعہ ہی پایا جا سکتا ہے۔اور خدا کی رہنمائی حاصل کرنے کا سب سے بڑا اور کامیاب ذریعہ یہی ہے کہ انسان خدا کے کلام پر غور کرے، اسے سمجھے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔-