زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 259
زریں ہدایات (برائے طلباء) 259 جلد چهارم کسی پردہ دار عورت کی آواز آ جاتی ہے تو تم کہتے ہو کہ معاف کیجئے میں نے سمجھا تھا کہ صاحب خانہ اندر ہیں۔تو جو چیز پس پردہ ہو جب تک وہ خود آواز نہ دے ہمیں پتہ کس طرح لگ سکتا ہے کہ وہ کون ہے اور اس کی کیا حقیقت ہے۔اگر ہم اپنے قیاس سے اس کے متعلق کوئی فیصلہ کریں گے تو وہ ایسی ہی بات ہو گی جیسے مشہور ہے کہ کسی شہر میں چار اندھے رہا کرتے تھے۔اتفاقاً ایک دن اُس شہر میں ہاتھی آ گیا اور سینکڑوں آدمی اس کے دیکھنے کے لئے اکٹھے ہو گئے۔ان اندھوں نے شہر والوں سے کہا کہ ہمیں بھی وہاں لے چلو۔سارا شہر دیکھ آیا ہے اگر ہم نہ گئے تو لوگ کیا کہیں گے۔چنانچہ کوئی شخص انہیں سہارا دے کر وہاں لے گیا۔اب وہ دیکھ تو سکتے نہیں تھے انہوں نے کہا کہ چلو ہم ٹول کر ہی معلوم کر لیتے ہیں کہ ہاتھی کیسا ہوتا ہے۔چنانچہ ایک نے ہاتھ مارا تو وہ اس کی دم پر پڑا، دوسرے نے ہاتھ مارا تو کان پر پڑا، تیسرے نے ہاتھ مارا تو سوٹڈ پر پڑا، چوتھے نے ہاتھ مارا تو پیٹ پر پڑا۔اس کے بعد وہ واپس آگئے اور پھر انہوں نے بیٹھ کر آپس میں ہاتھی کے متعلق باتیں شروع کر دیں۔ایک نے کہا کہ ہاتھی بس ایک لمبی سی چیز ہوتی ہے جس کے آگے تھوڑے سے بال ہوتے ہیں۔دوسرے نے کہا کہ تم بالکل جھوٹ بولتے ہو ہاتھی تو ایسا ہوتا ہے جیسے چھا ج ہوتا ہے۔تیسرے نے کہا تم نے ہاتھی دیکھا ہی نہیں وہ تو ڈھول کی طرح ہوتا ہے۔چوتھے نے کہا کہ سب غلط کہتے ہو وہ تو ایک موٹی سی لچکدار چیز ہوتی ہے اور کچھ بھی نہیں ہوتا ( اس کا ہاتھ سونڈ پر پڑا تھا ) یہ اختلاف اس لئے ہوا کہ انہوں نے بے دیکھے محض قیاس سے ایک چیز کا اندازہ کیا تھا۔اسی طرح جو چیز درون پردہ ہو اس کا پستہ باہر سے نہیں لگ سکتا۔اگر کوئی پتہ لگانے کی کوشش کرے گا تو وہ اندھوں کی طرح غلط پر ہی پہنچے گا۔یہی حال خدا تعالیٰ کی معرفت اور اس کی دینی تعلیموں کا ہے۔یہ علم صرف خدا تعالیٰ کی کتاب سے ہی حاصل ہوسکتا ہے اور جو شخص اسے باہر سے سیکھنے یا سمجھنے کی کوشش کرتا ہے وہ ان اندھوں کی طرح ہوتا ہے جن میں سے کسی نے سونڈ پر ہاتھ مارکر سمجھ لیا تھا کہ میں نے ہاتھی دیکھ لیا ہے۔کسی نے دم پر ہاتھ مار کر مجھ لیا تھا کہ میں نے ہاتھی