زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 258
زریں ہدایات (برائے طلباء) 258 جلد چهارم کے وجود کو دیکھا اور سمجھا اسی طرح قرآن کریم کے بھی مختلف پر دے ہیں اور ہر انسان اپنی عقل کے مطابق اس کو سمجھ لیتا ہے۔ایک جاہل آدمی اپنے علم کے مطابق اور ایک عالم مخلص اپنے علم کے مطابق۔یہ کہنا کہ انسان کو خدا کی راہنمائی کی کیا ضرورت ہے؟ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی کہے کہ سائنس میں سوچنے کی کیا ضرورت ہے۔حالانکہ سائنس نام ہی اس چیز کا ہے کہ انسان مٹی پر غور کر کے ، پانی پر غور کر کے ، ہوا پر غور کر کے، گرمی اور سردی پر غور کر کے مختلف نتائج اخذ کرے اور ان کی روشنی میں اپنے علم اور تجربہ کو ترقی دے۔اگر وہ کہے کہ مجھے پانی کے دیکھنے کی کیا ضرورت ہے، مجھے مٹی پر غور کرنے کی کیا ضرورت ہے، مجھے ہواؤں کے متعلق کسی سوچ بچار کی کیا حاجت ہے، میں کیوں سوچوں کہ سردی کیوں آتی ہے اور گرمی کیوں بڑھتی ہے تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ وہ اس کے نتیجہ میں کوئی ترقی نہیں کر سکتا۔وہ جس طرح جاہل تھا اسی طرح جاہل رہے گا۔اسی طرح یہ کہنا کہ خدا کی راہنمائی کی کیا ضرورت ہے؟ یہ بھی ویسی ہی جاہلانہ بات ہے جیسے یہ بات کہ مجھے مٹی اور پانی اور ہوا اور گرمی اور سردی پر غور کرنے کی کیا ضرورت ہے۔۔حقیقت یہ ہے کہ جو چیز درون پردہ ہو جب تک وہ آپ ہمیں آواز نہ دے اور آپ اپنے متعلق راہنمائی نہ کرے ہمیں باہر سے اس کے متعلق کچھ بھی معلوم نہیں ہو سکتا۔فرض کرو ایک مکان کا دروازہ اندر سے بند ہے اور تمہیں معلوم نہیں کہ اس کے اندر کون ہے تو تمہیں اندر کا حال کس طرح پتہ لگ سکتا ہے۔جب تک اندر سے خود تمہارے کانوں میں کوئی آواز نہ آئے۔فرض کرو اس مکان کے اندر بکری بندھی ہوئی ہے اور تم باہر کھڑے کہہ رہے ہو السَّلَامُ عَلَيْكُمُ کیا میں اندر آ جاؤں؟ اس پر اندر سے ” میں میں کی آواز آتی ہے تو تم سمجھ جاتے ہو کہ اندر کوئی بکری ہے، آدمی نہیں۔لیکن جب تک تمہیں آواز نہیں آتی ممکن ہے تم بار بار ادب کے ساتھ کہو کہ اجازت ہو تو اندر آ جاؤں؟ پس بکری کی آواز تمہیں حقیقت حال سے آگاہ کر دیتی ہے۔یا تم آواز دیتے ہو اور اندر سے