زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 257
زریں ہدایات (برائے طلباء) 257 جلد چهارم ہے۔ورنہ جو چیز نظر ہی نہیں آتی اسے کوئی مان کس طرح سکتا ہے۔پہلے تم نے خود ایک خدا ایجاد کیا اور پھر تم نے لوگوں سے کہا کہ اسے تسلیم کرو ورنہ خالی عقل اس خیال پر کبھی نہیں پہنچ سکتی کہ اس دنیا کا کوئی خدا ہے۔دوسرے نے کہا کہ خالی عقل اس عقیدہ پر پہنچ سکتی ہے یا نہیں۔اس کے پہچاننے کا طریق یہ ہے کہ یہی بات ہم کسی جنگلی آدمی سے پوچھ لیتے ہیں۔اگر تو وہ کہے گا کہ اس دنیا کا کوئی خدا ہے تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ عقیدہ ایسا ہے جسے فطرت تسلیم کرتی ہے۔اور اگر وہ کہے گا کہ مجھے کیا پتہ، یہ بات تو پڑھے لکھے جانتے ہیں تو نہ لگ جائے گا کہ یہ عقیدہ پڑھے لکھے لوگوں کی ایجاد ہے۔فطرت کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔چنانچہ اس کے بعد وہ ایک جانگلی کے پاس گئے۔وہ اُس وقت اونٹ پر گھانس لا در ہا تھا۔انہوں نے اس سے پوچھا کہ میاں ! ہم تم سے ایک بات پوچھنا چاہتے ہیں تم ہمیں یہ بتاؤ کہ اس دنیا کا کوئی خدا ہے یا نہیں ؟ وہ ہنس کر کہنے لگا کہ خدا نہیں تو کیا ہے؟ انہوں نے کہا کوئی ثبوت؟ وہ کہنے لگا ارے میاں ! جنگل میں لید پڑی ہوئی ہوتی ہے تو میں کہتا ہوں کہ یہاں سے گدھا گزرا ہے۔مینگنی پڑی ہوئی ہوتی ہے تو میں کہتا ہوں یہاں سے بکری گزری ہے۔کیا اتنی بڑی زمین اور آسمان کو دیکھ کر میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس دنیا کو بھی کسی نے بنایا ہے۔اب دیکھو ہستی باری تعالیٰ کے جو بار یک دلائل ہیں ان کا اسے کوئی علم نہیں تھا۔مگر چونکہ یہ چیز انسانی فطرت میں داخل تھی اس لئے اس نے کہا کہ ایک چھوٹی سے چھوٹی چیز کو دیکھ کر ہم کہتے ہیں کہ یہ بلا وجہ نہیں تو پھر ہم زمین اور آسمان کو دیکھ کرکس طرح کہہ سکتے ہیں کہ یہ خود بخود پیدا ہو گئے ہیں۔بے شک یہ ایک نامکمل دلیل ہے جب تم فلسفہ پڑھو گے تو تم دیکھو گے کہ اس دلیل پر اعتراض کرنے والا اعتراض کرے گا اور کہے گا کہ یہ دلیل غلط ہے لیکن اس شخص کے لئے یہ دلیل بالکل کافی تھی اور وہ حیران تھا کہ کیا کوئی ایسا بے وقوف بھی ہو سکتا ہے جو کہے کہ اتنی بڑی دنیا کا کوئی خدا نہیں۔اگر لید اور مینگنیوں کو دیکھ کر اونٹ اور گھوڑے اور بکری کا خیال آ سکتا ہے تو زمین و آسمان کو دیکھ کر خدا کا انکار کس طرح کیا جا سکتا ہے۔جس طرح اس بدوی نے اپنی عقل کے مطابق خدا تعالیٰ