زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 238

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 238 جلد چهارم کے ساتھ طے کرتے ہوئے وہ ہندوستان کی سرحد پر پہنچ گئے۔اب تو تمہارا اپنا وجود ہی بتا رہا ہے کہ اس مہم کا نتیجہ کیا ہوا۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ آٹھ ہزار سپاہی جو بصرہ سے چلا تھا اس آٹھ ہزار سپاہی نے دو مہینہ کے اندر اندر سندھ کو مسلمان اور اس کے گردو نواح تک کو فتح کر لیا اور وہ قیدی بچائے گئے ، عورتیں بچالی گئیں اور سندھ کا ملک جس میں راجہ داہر کی حکومت تھی اسے سارے کا سارا فتح کر لیا گیا۔اور پھر مسلمانوں کا لشکر ملتان کی طرف بڑھا مگر بدقسمتی سے بادشاہ کی وفات کے بعد اُس کا بھائی تخت نشین ہوا۔اُسے ان لڑائیوں میں بادشاہ سے بھی اختلاف تھا اور افسروں سے بھی اختلاف تھا۔جب اپنے بھائی کی وفات کے بعد وہ حکومت کے تخت پر بیٹھا تو اُس نے محمد بن قاسم کو جو ایک فائح جرنیل تھا اور جو ارادہ رکھتا تھا کہ حملہ کر کے بنگال تک چلا جائے ، معزول کر کے واپس آنے کا حکم دے دیا۔اور جب وہ واپس آیا تو اسے قتل کروا دیا ور نہ ہندوستان کا نقشہ آج بالکل اور ہوتا۔آج صرف یہاں پاکستان نہ ہوتا بلکہ سارا ہندوستان ہی پاکستان ہوتا۔جن ملکوں کو عربوں نے فتح کیا ہے اُن میں اسلام اس طرح داخل ہوا ہے کہ کوئی شخص اسے قبول کرنے سے بچا نہیں۔غیر قو میں جو ہندوستان میں آئی ہیں ان کے اندر تبلیغی جوش نہیں تھا اس لئے انہوں نے چند علاقوں کو فتح کیا ہے۔وہاں کے رہنے والوں میں اسلام کی دشمنی بھی تھی ، اسلامی تعلیم سے منافرت بھی تھی اور پھر ان فاتح اقوام کا سلوک بھی زیادہ اچھا نہیں تھا لیکن عرب تو اس طرح بچھ جاتا تھا کہ وہ جس ملک میں جاتا اپنے آپ کو حاکم نہیں سمجھتا تھا بلکہ لوگوں کا خادم سمجھتا تھا۔نتیجہ یہ ہوتا کہ تھوڑے عرصہ میں ہی سارے کا سارا ملک مسلمان ہو جاتا۔پس اگر اُس زمانہ میں ہندوستان کو فتح کر لیا جاتا تو یقیناً آج ہندوستان ، ایران اور مصر کی طرح ایک مسلمان ملک ہوتا کیونکہ وہ لوگ عربوں کا نمونہ دیکھتے تھے۔اُن کی خدمت اور حسن سلوک کو دیکھتے تھے، اُن کی دیانت اور راست بازی کو دیکھتے تھے اور ان اخلاق سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے تھے۔ان کے سامنے عرب اور غیر عرب کا سوال نہیں ہوتا تھا بلکہ صرف سچائی کا سوال ہوتا تھا جس کے بعد بغض اور کینے