زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 239
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 239 جلد چهارم آپ ہی آپ مٹ جاتے ہیں۔تمہارے باپ دادا کے یہ حالات سوائے تاریخ کے تمہیں اور کس ذریعہ سے معلوم ہو سکتے ہیں۔یہی چیز ہے جو تمہیں فائدہ پہنچا سکتی ہے ورنہ محض دو دو نے چار سے یعنی دو کو دو سے ضرب دی جائے تو چار حاصل ہوتے ہیں تمہیں کیا نفع حاصل ہو سکتا ہے۔لیکن اگر تم تاریخ پڑھو اور تم ذرا بھی عقل رکھتی ہو، ذرا بھی جستجو کا مادہ اپنے اندر رکھتی ہو تو تمہاری زندگی ضائع نہیں ہوسکتی۔مضمون تو میں نے اور شروع کیا تھا مگر میں رو میں بہ کر کہیں کا کہیں چلا گیا اور میں کہہ یہ رہا تھا کہ کبھی زمانہ بدلتا ہے اور لوگ اس کے ساتھ بدلتے چلے جاتے ہیں اور بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے ساتھ زمانوں کو بدل دیتے ہیں۔مسلمان وہ قوم تھی جو زمانہ کے ساتھ نہیں بدلی بلکہ زمانہ کو اس نے اپنے ساتھ بدل دیا۔وہ جہاں جہاں گئے انہوں نے لوگوں کو اپنے اخلاق کی نقل پر مجبور کر دیا۔اپنے لباس کی نقل پر مجبور کر دیا۔اپنے تمدن کی نقل پر مجبور کر دیا اور وہ دنیا کے استاد اور راہنما تسلیم کئے گئے۔آج مسلمان عورت یورپ کی بے پردگی کی نقل کر رہی ہے حالانکہ کبھی وہ زمانہ تھا کہ مسلمان عورتوں کے پردہ کو دیکھ کر یورپ کی عورتوں نے پردہ کیا۔چنانچہ نوں (NUNS) کو دیکھ لو۔یورپ ایک بے پر د ملک تھا اور بے پردگی ان میں فیشن سمجھا جاتا تھا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان عورت پردہ کرتی ہے تو بہت حد تک انہوں نے بھی پردہ لے لیا۔چنانچہ ننز (NUNS) میں گو پورا پردہ نہ ہو لیکن ان کی نقاب بھی ہوتی ہے، ان کی پیشانی بھی ڈھکی ہوئی ہوتی ہے اور ان کے جسم پر کوٹ بھی ہوتا ہے جس سے ان کے تمام اعضاء ڈھکے ہوئے ہوتے ہیں اور گوہم اسے پورا اسلامی پردہ نہ کہہ سکیں مگر نوے فیصدی پردہ ان میں ضرور پایا جاتا ہے۔حالانکہ یہ وہ عورت تھی جو اسلام کے یورپ میں جانے سے پہلے نگی پھرتی تھی اور جیسے بندریا کو ایک ٹھگھری پہنا دی جاتی ہے اسی طرح انہوں نے ایک گھگھر کی پہنی ہوئی ہوتی تھی۔چنانچہ یورپ کی پرانی تصویریں دیکھ لو صورتوں کے بازو، ٹانگیں اور سینہ وغیر و سبک بنگا ہوتا تھا۔مگر جب مسلمان عورتوں کو انہوں نے پردہ کرتے دیکھا تو انہوں نے بھی پردہ