زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 237

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 237 جلد چهارم طرف توجہ کر سکوں۔جب وہ ہر طرح دلائل دے کر تھک گیا تو اُس نے کہا میرے پاس کی آپ کے لئے اور خلیفہ وقت کے لئے ایک پیغام بھی ہے۔حجاج نے کہا وہ کیا ہے؟ اُس نے کہا کہ جب میں چلا ہوں تو ایک مسلمان عورت جو قید ہونے کے خطرہ میں تھی اور اس وقت تک قید ہو چکی ہوگی اُس نے مجھے یہ پیغام دیا تھا کہ اسلامی خلیفہ اور عراق کے گورنر کو ہماری طرف سے یہ پیغام دے دیں کہ مسلمان عورتیں ظالم ہندوؤں کے ہاتھ میں قید ہیں اور ان کی عزت اور ان کا ناموس محفوظ نہیں ہے ہم مسلمان قوم سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ اپنے فرض کو ادا کرے اور ہمیں یہاں سے بچانے کی کوشش کرے۔کوئی ملک نہیں ، کوئی قوم نہیں دو یا تین عورتیں ہیں اور میں یا چھپیں مرد ہیں جن کے بچانے کے لئے بعض دفعہ ضلع کا ڈپٹی کمشنر بھی یہ کہہ دیتا ہے کہ میرے پاس سپا ہی موجود نہیں۔یہ ایک معمولی واقعہ ہے۔اس کا حجاج پر یہ اثر ہوتا ہے کہ وہی حجاج جو یہ کہہ رہا تھا کہ ہمارے پاس فوج نہیں ، ہم یورپ پر حملہ کی تیاری کر رہے ہیں وہ اس پیغام کو سن کر گھبرا کر کھڑا ہو گیا اور جب اُس آنے والے آدمی نے پوچھا کہ اب آپ مجھے کیا جواب دیتے ہیں؟ تو حجاج نے کہا کہ اب کہنے اور سننے کا کوئی وقت باقی نہیں اب میرے لئے کوئی اور فیصلہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اب اس کا جواب ہندوستان کی فوج کو ہی دیا جائے گا۔چنانچہ اُس نے بادشاہ کو لکھا اُس نے بھی یہی کہا کہ ٹھیک فیصلہ ہے اب ہمارے لئے غور کرنے کا کوئی موقع باقی نہیں۔اور اس فیصلے کے مطابق مسلمان فوج سندھ کے لئے روانہ کر دی گئی۔درمیان میں کوئی ہزار میل کا فاصلہ ہے یا اس سے بھی زیادہ۔اور اس زمانے میں موٹروں کے ساتھ بھی اس فاصلے کو آسانی سے طے نہیں کیا جا سکتا لیکن بادشاہ نے حکم دیا کہ اب مسلمانوں کی عزت اور ناموس کا سوال ہے بغیر کسی التوا کے جلد سے جلد منزل مقصود پر مسلمانوں کا پہنچنا ضروری ہے۔چنانچہ مسلمان درمیان میں کہیں ٹھہرے نہیں اُنہوں نے اونٹوں اور گھوڑوں پر رات اور دن سفر کیا اور بارھویں دن اس فاصلے کو جو آج ریلوں اور موٹروں کے ذریعہ بھی اتنے قلیل عرصہ میں طے نہیں کیا جا سکتا اپنی ان تھک محنت اور کوشش