زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 234

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 234 جلد چهارم زمین نکل گئی اور اُس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ان لوگوں کو جلدی پکڑ و مگر وہ اُس وقت تک دور نکل چکے تھے ؟ انہوں نے کہا اب یہ پکڑی جانے والی مخلوق نہیں ہے۔پھر وہی بادشاہ جس نے یہ کہا تھا کہ میں تمہارے سروں پر خاک ڈالتا ہوں وہ میدان چھوڑ کر بھاگا۔پھر ملک چھوڑ کر بھاگا اور شمالی پہاڑوں میں جا کر پناہ گزیں ہو گیا اور اس کے قلعے اور محلات اور خزانے سارے کے سارے مسلمانوں کے قبضہ میں آگئے۔ابو ہریرہ وہ غریب ابو ہریرہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں سارا دن بیٹھے رہنے کے خیال سے کوئی گزارہ کی صورت پیدا نہیں کرتا تھا اور جسے بعض دفعہ کئی کئی دن کے فاقے ہو جایا کرتے تھے ایک دفعہ وہ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ انہیں کھانسی اٹھی۔انہوں نے اپنی جیب میں سے رومال نکالا اور اُس میں بلغم تھو کا اور پھر کہا بخ بخ ابو ہریرہ ! یعنی واہ واہ ابو ہریرہ ! کبھی تو فاقوں سے بے ہوش ہو جایا کرتا تھا اور آج تو کسری کے اس رومال میں تھوک رہا ہے جسے بادشاہ تخت پر بیٹھتے وقت اپنی شان دکھانے کے لئے خاص طور پر اپنے ہاتھ میں رکھا کرتا تھا۔لوگوں نے کہا یہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا میں آخری زمانہ میں مسلمان ہو ا تھا میں نے اس خیال سے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں لوگوں نے بہت کچھ سن لی ہیں اور اب میرے لئے بہت تھوڑ ازمانہ باقی ہے یہ عہد کر لیا کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ سے نہیں ہلوں گا سارا دن مسجد میں ہی رہوں گا تا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی باہر تشریف لائیں میں آپ کی باتیں سن سکوں۔کچھ دن تو میرا بھائی مجھے روٹی پہنچا تا رہا مگر آخر اُس نے روٹی پہنچانی چھوڑ دی اور مجھے فاقے آنے لگے۔بعض دفعہ سات سات وقت کا فاقہ ہو جاتا تھا اور بھوک کی شدت کی وجہ سے میں بے ہوش ہو کر گر جاتا تھا۔لوگ یہ سمجھتے کہ مجھے مرگی کا دورہ ہو گیا ہے اور عربوں میں یہ رواج تھا کہ جب کسی کو مرگی کا دورہ ہوتا تو اُس کے سر پر جوتیاں مارا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ مرگی کا علاج ہے۔جب میں بے ہوش ہوتا تو میرے سر پر بھی وہ جوتیاں مارنا شروع کر دیتے حالانکہ میں بھوک کی شدت کی وجہ سے بے ہوش ہوتا تھا۔