زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 235

زریں ہدایات (برائے طلباء) 235 جلد چهارم اب گجا وہ حالت اور گجا یہ حالت کہ ایران کا خزانہ مسلمانوں کے قبضہ میں آیا اور اموال تقسیم ہوئے تو وہ رومال جو شاہ ایران تخت پر بیٹھتے وقت اپنے ہاتھ میں رکھا کرتا تھا وہ میرے حصہ میں آیا۔مگر ایران کا بادشاہ تو آرائش کے لئے اس رو مال کو اپنے ہاتھ میں رکھا کرتا تھا اور میرے نزدیک اس رومال کی صرف اتنی قیمت ہے کہ میں اس میں اپنا بلغم تھوک رہا ہوں 6 سوائے تاریخ کے کون سی چیز ہے جو تمہیں اپنے آباء کے ان حالات سے واقف کر سکتی ہے اور تمہیں بتا سکتی ہے کہ تم کیا تھے اور اب کیا ہو۔کسی ملک میں مسلمان عورت نکل جاتی تھی تو لوگوں کی مجال تک نہیں ہوتی تھی کہ وہ اُس کی طرف اپنی آنکھ اٹھا سکیں۔آجکل ربوہ کی گلیوں میں احمدی عورتیں پھرتی ہیں تو ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ باہر کا کوئی او باش آدمی یہاں آیا ہوا ہو اور وہ کوئی شرارت کر دے۔لیکن ایک وہ زمانہ گزرا ہے کہ مسلمان عورتیں دنیا کے گوشے گوشے میں جاتیں، اکیلے اور تن تنہا جاتیں اور کسی کو جرات نہیں ہوتی تھی کہ وہ ان کی طرف ترچھی نگاہ سے دیکھ سکے۔اور اگر کبھی کوئی ایسی غلطی کر بیٹھتا تو وہ اُس کا ایسا خمیازہ بھگتا کہ نسلوں نسل تک اُس کی اولاد ناک رگڑتی چلی جاتی۔مسلمان اپنے ابتدائی دور میں ہی دنیا میں پھیل گئے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ابھی اسی توے سال ہی گزرے تھے کہ وہ چین اور ملایا اور سیلون اور ہندوستان کے مختلف گوشوں میں پھیل گئے۔ادھر وہ افریقہ کے مغربی ساحلوں تک چلے گئے تھے اور ان کی لہریں یورپ کے پہاڑوں سے ٹکرا رہی تھیں۔اس ابتدائی دور میں مسلمانوں کا ایک قافلہ جس کو سیلون کے بدھ بادشاہ نے خلیفہ وقت کے لئے کچھ تحائف بھی دیئے تھے سیلون سے روانہ ہوا اور اسے سندھ میں لوٹ لیا گیا۔سندھ میں اُن دنوں راجہ داہر کی حکومت تھی جب اس قافلہ کے لوٹے جانے کی خبر مشہور ہوئی تو گورنر عراق کا والی مکر ان کو حکم پہنچا کہ ہمارے پاس یہ خبر پہنچی ہے کہ مسلمانوں کا ایک قافلہ جوسیلون سے چلا تھا وہ سندھ میں لوٹا گیا ہے اور مسلمان مرد اور عورتیں قید ہیں۔تم اس واقعہ کی تحقیق کر کے ہمیں اطلاع دو۔