زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 233

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 233 جلد چهارم نے ہمیں کیوں بلایا ہے؟ بادشاہ نے کہا کہ تمہارا ملک نہایت جاہل، پست ، در ماندہ اور مالی تنگی کا شکار ہے اور پھر عرب وہ قوم ہے کہ جو گوہ تک ( ایک ادنی جانور ہے) کھاتی ہے وہ عمدہ کھانوں سے نا آشنا ہے، عمدہ لباس سے نا آشنا ہے اور بھوک اور افلاس نے اسے پریشان کر رکھا ہے۔معلوم ہوتا ہے اس تنگی اور قحط کی وجہ سے تمہارے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ ہم دوسرے ملکوں میں جائیں اور ان کو لوٹیں۔میں تمہارے سامنے تمہاری اس تکلیف کو دیکھتے ہوئے یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ تمہارا جتنا لشکر ہے اس میں سے ہر سپاہی کو میں ایک ایک اشرفی اور ہر افسر کو دو دو اشرفیاں دے دوں گا۔تم یہ روپیہ لو اور اپنے ملک میں واپس چلے جاؤ۔مسلمان کمانڈر نے کہا اے بادشاہ! یہ جو تم کہتے ہو کہ ہماری قوم گوہ تک کھانے والی تھی اور ہم غربت اور ناداری میں اپنے ایام بسر کر رہے تھے یہ بالکل درست ہے۔ایسا ہی تھا۔مگر اب وہ زمانہ نہیں رہا۔خدا تعالیٰ نے ہم میں اپنا ایک رسول بھیجا اور اُس نے ہم کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچایا اور ہم نے اُسے قبول کر لیا۔تمہارا یہ خیال ہے کہ ہم روپوؤں کے لئے نکلے ہیں؟ مگر ہم روپوؤں کے لئے نہیں نکلے۔تمہاری قوم نے ہم سے جنگ شروع کی ہے اور اب ہماری تلواریں تبھی نیام میں جائیں گی جب یا تو کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان ہو جاؤ گے اور یا پھر مسلمانوں کے باجگزار ہو جاؤ گے اور ہمیں جزیہ ادا کرو گے۔ایران کا بادشاہ جو اپنے آپ کو نصف دنیا کا بادشاہ سمجھتا تھا وہ اس جواب کو برداشت نہ کر سکا اُسے غصہ آیا اُس نے چوبدار سے کہا جاؤ اور ایک بورے میں مٹی ڈال کر لے آؤ۔وہ بوری میں مٹی ڈال کر لے آیا تو اس نے کہا کہ یہ بوری اس مسلمان سردار کے سر پر رکھ دو اور اسے کہہ دو کہ میں تمہارے سروں پر خاک ڈالتا ہوں اور سوائے اس مٹی کے تمہیں کچھ اور دینے کے لئے تیار نہیں۔وہ مسلمان افسر جس کی گردن ایران کے بادشاہ کے سامنے نہیں جھکی تھی اس موقع پر اُس نے فوراً اپنی گردن جھکا دی، پیٹھ پر بوری رکھی اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ آجاؤ بادشاہ نے خود ایران کی زمین ہمارے سپرد کر دی ہے۔مشرک تو وہی ہوتا ہے بادشاہ نے یہ سنا تو اس کے پاؤں تلے سے