زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 232
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 232 جلد چهارم حضرت عمرؓ کے زمانہ میں اسلامی لشکر ایران کے ساتھ ٹکر لے رہا تھا کہ بادشاہ کو خیال آیا کہ یہ عرب ایک غریب ملک کے رہنے والے بھوکے ننگے لوگ ہیں اگر ان کو انعام کے طور پر کچھ روپیہ دے دیا جائے تو ممکن ہے کہ یہ لوگ واپس چلے جائیں اور لڑائی کا خیال ترک کر دیں۔چنانچہ اُس نے مسلمانوں کے کمانڈر انچیف کو کہلا بھیجا کہ اپنے چند آدمی میرے پاس بھجوا دیئے جائیں میں اُن سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔جب وہ ملنے کے لئے آئے تو اُس وقت بادشاہ بھی اپنے دار الخلافہ سے نکل کر کچھ دور آگے آیا ہو ا تھا اور عیش اور یتیم کا ہر قسم کا سامان اس کے ساتھ تھا۔نہایت قیمتی قالین بچھے ہوئے تھے ، نہایت اعلیٰ درجے کے کاؤچ اور کرسیاں بچھی ہوئی تھیں اور بادشاہ تخت پر بیٹھا تھا کہ مسلمان سپاہی آپہنچے۔سپاہیوں کے پاؤں میں آدھے چھلے ہوئے چمڑے کی جو تیاں تھیں جو مٹی سے اٹی ہوئی تھیں اور ان کے ہاتھوں میں نیزے تھے۔جس وقت وہ دروازے پر پہنچے چوبدار نے آواز دی کہ بادشاہ سلامت کی حضوری میں تم حاضر ہوتے ہو اپنے آپ کو ٹھیک کرو۔پھر اس نے مسلمان افسر سے کہا تمہیں معلوم نہیں کہ کس قسم کے قیمتی قالین بچھے ہوئے ہیں۔تم نے اپنے ہاتھوں میں نیزے اُٹھائے ہوئے ہیں ان نیزوں سمیت قالینوں پر سے گز رو گے تو ان کو نقصان پہنچے گا۔اس مسلمان افسر نے کہا تمہارے بادشاہ نے ہم کو بلایا ہے ہم اپنی مرضی سے اس سے ملنے کے لئے نہیں آئے ہیں۔اگر ملنے کی احتیاج ہے تو اُس کو ہے ہمیں نہیں۔اسے اگر اپنے قالینوں کا خیال ہے تو اسے کہ دو کہ وہ اپنے قالین اٹھا لے۔ہم جو تیاں اتارنے یا نیزے اپنے ہاتھ سے رکھنے کے لئے تیار نہیں۔اس نے بہتیرا پروٹسٹ کیا اور کہا کہ اندر نہایت قیمتی فرش ہے جو تیاں اتار دو اور نیزے رکھ دو مگر انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا۔اس نے ہم کو بلایا ہے ہم اپنی مرضی سے اس سے ملنے کے لئے نہیں آئے۔غرض اسی حالت میں وہ اندر پہنچے۔وہاں تو بڑے سے بڑا جرنیل اور وزیر بھی زمین بوس ہوتا اور بادشاہ کے سامنے سجدہ کرتا تھا مگر یہ تنی ہوئی چھاتیوں اور اٹھی ہوئی گردنوں کے ساتھ وہاں پہنچے۔بادشاہ کو سلام کیا اور پھر اُس سے پوچھا کہ بادشاہ ! تم۔