زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 231

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 231 جلد چهارم میں فرمایا کہ مردم شماری کرو اور دیکھو کہ اب کتنے مسلمان ہو چکے ہیں۔مردم شماری کی گئی اور مسلمان مردوں ، عورتوں اور بچوں کی تعداد سات سو نکلی 3 تم جانتی ہو کہ ربوہ کی آبادی اس وقت اڑھائی ہزار کے قریب ہے گویا تمہاری ربوہ کی آبادی کا 1/4 حصہ تھے۔اور یہ وہ مردم شماری تھی جو ساری دنیا کے مسلمانوں کی تھی کیونکہ اُس وقت مدینہ سے باہر مسلمان بہت تھوڑے تھے سوائے حبشہ کے کہ وہاں کوئی پچاس کے قریب مسلمان ہوں گے یا مکہ میں کچھ مسلمان تھے جو ڈر کے مارے اپنے ایمان کا اظہار نہیں کرتے تھے اور کھلے بندوں اسلام میں شامل نہیں تھے۔غرض مردم شماری کی گئی اور سات سو کی آبادی نکلی - و صحابہ جن کے سپر دیہ کام تھا وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مسلمانوں کی آبادی سات سو نکلی ہے۔پھر انہوں نے کہا یا رَسُول الله ! آپ نے مردم شماری کا حکم کیوں دیا تھا؟ کیا آپ کو یہ خیال آیا کہ مسلمان تھوڑے ہیں؟ 03- يَا رَسُول اللہ ! اب تو ہم سات سو ہو گئے ہیں اب ہمیں دنیا سے کون مٹا سکتا ہے۔4 آج کہا جاتا ہے کہ مسلمان ساٹھ کروڑ ہیں لیکن ان ساٹھ کروڑ کا دل اتنا مضبوط نہیں جتنا اُن سات سو کا دل مضبوط تھا۔آخر یہ تفاوت جو دلوں کے اندر ہے تمہیں اس کا کس طرح پتہ لگ سکتا ہے بغیر تاریخ کے مطالعہ کے۔ایک ایک مسلمان نکلتا تھا اور دنیا کی طاقتیں اُس کے سامنے جھک جاتی تھیں۔وہ نقال نہیں تھا بلکہ خود اپنی ذات میں اپنے آپ کو آدم سمجھتا تھا۔وہ یقین رکھتا تھا کہ دنیا میری نقل کرے گی۔میرا کام نہیں کہ میں اس کی نقل کروں۔تم اگر تاریخ پڑھو تو تمہیں پتہ لگے گا کہ آج تم ہر بات میں یورپ کی نقل کر رہی ہو۔تم بعض دفعہ کہہ دیتی ہو فلاں تصویر میں میں نے ایسے بال دیکھے تھے اُف جب تک میں بھی ایسے بال نہ بنالوں مجھے چین نہیں آئے گا۔فلاں پاؤڈر نکلا ہے جب تک میں اُسے خرید نہ لوں مجھے قرار نہیں آئے گا۔اس کے معنی یہ ہیں کہ تم سمجھتی ہو کہ تمہارا دشمن بڑا ہے اور تم چھوٹی ہو۔اگر تم بڑی ہو تو اُس کا کام ہے کہ وہ تمہاری نقل کرے۔اور اگر وہ بڑا ہے تو پھر تمہارا کام ہے کہ تم اُس کی نقل کرو۔