زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 205
زریں ہدایات (برائے طلباء) 205 جلد چهارم بعد یہ حرام خوری ہوگی کہ اس کے قیمتی موتی کو جس کی وجہ سے دوسرے بادشاہ تک رشک کرتے ہیں کہ کاش ! یہ موتی ان کے پاس ہو توڑ ڈالوں۔بادشاہ نے کہا تم نے محبت کا بہت اظہار کیا ہے اچھا بیٹھ جاؤ۔پھر بادشاہ نے دوسرے وزیر کو بلایا اور کہا ہتھوڑا لو اور اس موتی کو توڑ ڈالو لیکن اسے ایک نکتہ مل چکا تھا اس نے دیکھ لیا تھا کہ وزیر اعظم نے ایک بات کہی اور بادشاہ اس پر خوش ہوا اس لئے اس نے اس کے پیچھے چلنا تھا۔جب بادشاہ نے کہا کہ اس موتی کو توڑ دو تو اس وزیر نے کہا بادشاہ سلامت ! آپ کے اور آپ کے باپ دادوں کے ہمارے خاندان پر کس قدر احسانات ہیں۔میں کچھ بھی چیز نہیں تھا مگر آپ نے مجھے نوازا اور اپنا وزیر بنالیا۔میرے باپ دادوں اور میرے خاندان نے آپ کا نمک کھایا اتنے احسانات کے بعد یہ نمک حرامی ہوگی کہ میں اتنی قیمتی چیز توڑ ڈالوں۔غرض بادشاہ نے اسی طرح ایک کے بعد دوسرے اور دوسرے کے بعد تیسرے وزیر سے یہی سوال کیا اور ساتوں وزیروں نے یہی جواب دیا۔جب سارے وزرا گزر چکے تو بادشاہ نے ایاز کو اشارہ کیا کہ ہتھوڑے سے اس موتی کو توڑ دو۔ایاز نے ہتھوڑا لیا اور اس موتی کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔وزرا اور دوسرے درباری حیران ہوئے کہ اسے اس قدر قیمتی موتی تو ڑ دینے کی جرات کیسے ہوئی۔ان کے لئے یہ بات تعجب انگیز تھی کہ ایاز نے بغیر غور کئے اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس قیمتی موتی کو توڑ دیا ہے۔انہوں نے یک زبان ہو کر کہا بادشاہ سلامت ! ہم نہیں کہتے تھے کہ یہ غلام کسی دن موقع پا کر فتنہ کھڑا کر دے گا۔اس کو اتنی عزت دینا مناسب نہیں۔پرانے نمک خواروں اور غداروں میں یہی فرق ہے۔کتنی قیمتی چیز تھی جس کی وجہ سے آپ کی شہرت تھی اور دوسرے بادشاہ آپ پر رشک کرتے تھے لیکن اس نے آپ کی عزت اور شہرت کی پرواہ نہ کی اور اسے توڑ کر رکھ دیا۔محمود نے بھی مصنوعی غصہ والی شکل بنائی اور کہا ایاز ! تم نے یہ کیا کیا ہے تو جانتا تھا کہ یہ موتی کس قدر قیمتی چیز ہے اور کیا تو نے وزرا سے اس کی تعریف نہیں سنی تھی ؟ ایاز نے کہا حضور ! میں نے تعریف تو سنی تھی۔محمود نے کہا تو پھر تو نے اسے کیوں توڑ دیا ؟ ایاز نے کہا میری نظر میں