زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 206
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 206 جلد چهارم اس موتی کی کوئی قدر نہیں ، میرے نزدیک سب سے قیمتی چیز آپ کی ذات ہے۔میں یہ نہیں دیکھ سکتا کہ آپ کوئی حکم دیں اور پھر اس کی تعمیل نہ ہو۔میرے نزدیک اس سے بڑھ کر ہتک آمیز اور کوئی بات نہیں کہ کوئی کہے محمود نے اپنے سپاہی کو حکم دیا اور اس نے پورا نہیں کیا۔اس موتی کی قدر ہی کیا ہے۔بادشاہوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ محمود اگر کسی سپاہی کو حکم دیتا ہے تو چاہے وہ کتنا ہی خطر ناک کیوں نہ ہو وہ کر گزرتا ہے۔میں مانتا ہوں کہ یہ موتی نہایت قیمتی تھا اور دوسرے بادشاہ اس کی وجہ سے آپ پر رشک کرتے تھے لیکن اگر میں آپ کے علم کی تعمیل نہ کرتا تو دوسرے بادشاہوں کو موقع مل جاتا اور وہ کہتے کہ محمود نے اپنے ایک سپاہی کو حکم دیا اور اس نے تعمیل نہیں کی۔اس لئے میں نے موتی تو ڑ دیا اور اونی چیز کو اعلیٰ کے لئے قربان کر دیا۔بادشاہ نے وزرا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا بتا ؤ ایاز نے جو کچھ کہا ٹھیک ہے یا تمہاری بات ٹھیک ہے؟ وزرا نے کہا جو کچھ ایاز نے کہا وہی درست ہے۔محمود نے کہا یہی وجہ ہے کہ اس کو عزت ملی ہے۔پس یہ بات ٹھیک ہے کہ ہمارے جذبات قادیان کے ساتھ وابستہ ہیں مگر ایسا کیوں ہے؟ کیا ہمارے جذبات قادیان کے ساتھ اس لئے وابستہ ہیں کہ وہاں ہمارے باپ دادا پیدا ہوئے ؟ اگر یہ بات درست ہے کہ ہمارے جذبات قادیان سے اس لئے وابستہ ہیں کہ ہمارے باپ دادے وہاں پیدا ہوئے تو کیا ہمارے باپ دادا ہی کسی جگہ پیدا ہوئے ہیں اور کسی کے باپ دادے کسی جگہ پیدا نہیں ہوئے ؟ ہر بستی میں ، ہر گاؤں اور شہر میں کسی باپ دادا کی اولاد ہوتی ہے اور کروڑوں کروڑ لوگ دنیا میں ایسے ہوئے ہیں جنہوں نے اپنے باپ دادوں کی جگہ کو چھوڑ دیا ہے۔پس اگر وہ صدمہ ان کے لئے نا قابل برداشت نہیں تھا ، اگر وہ حادثہ ان کے دلوں کو ہلا دینے والا نہیں تھا تو ہمارے اپنے باپ دادا کی جگہ کو چھوڑ دینا کیوں نا قابل برداشت ہو۔ہمارا ایک ہی جواب ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ انہیں وہ بستیاں اس لئے پیاری تھیں کہ ان میں ان کے باپ دادوں نے جنم لیا تھا۔لیکن قادیان ہمیں اس لئے پیارا نہیں ہے کہ ہمارے باپ دادوں نے وہاں جنم لیا تھا