زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 204
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 204 جلد چهارم ایک وقت آیا کہ وہ فوج کا سپہ سالار بن گیا۔گو وہ اچھے خاندان سے تھا لیکن اُس وقت وہ ایک غلام کی حیثیت میں تھا اور غلام حقیر سمجھے جاتے ہیں۔رؤسا کو یہ بات بہت بری لگی کہ ایک غلام آگے آ رہا ہے اور رؤسا اس کے ماتحت کام کر رہے ہیں۔اس تکلیف کی وجہ سے وہ ایاز کے خلاف اکثر بادشاہ کے کان بھرتے رہتے تھے۔انہوں نے ایک دن بادشاہ سے کہا کہ یہ غدار ہے۔غیر قوم کا ایک فرد ہے اس کو ہمارے ملک کے مفاد سے کیا تعلق۔جب بھی اسے موقع ملے گا فتنہ کھڑا کر دے گا۔اور ہم لوگ جو اپنے باپ دادا کے وقت سے آپ کے خادم ہیں ہمارے باپ دادوں نے بھی آپ کے خاندان کی بڑی بڑی خدمات کی ہیں اور آپ نے ان پر بڑے بڑے احسانات کئے ہیں۔ہمارا اور اس کا جوڑ ہی کیا ہے۔اسی طرح وہ اکثر بادشاہ کے پاس ایاز کی شکایتیں کرتے رہتے تھے۔ایک دن بادشاہ نے جب وہ دربار میں بیٹھا ہوا تھا خزانچی کو بلایا اور اسے کہا خزانہ میں ایک قیمتی موتی پڑا ہے وہ فلاں جگہ سے آیا ہے جاؤ اور وہ موتی لے آؤ۔خزانچی وہ موتی لے آیا۔اس کی چمک نہایت اعلیٰ درجہ کی تھی، اس سے غیر معمولی شعاعیں دیکھ کر تمام درباری حیران ہو گئے۔بادشاہ نے درباریوں سے دریافت کیا کہ اس کی کیا قیمت ہوگی؟ درباریوں نے کہا اس کی قیمت دو چار ہزار اشرفی سے کیا کم ہو گی۔جب وہ موتی دربار میں پھر چکا تو محمود نے کہا ایک ہتھوڑا لا ؤ۔چنانچہ ہتھوڑا لایا گیا۔اُس وقت وزرا عدد کے لحاظ سے ہوتے تھے لیکن اب وزرا محکموں کے لحاظ سے ہوتے ہیں۔اُس وقت محمود کے سات وزیر تھے۔اس نے بڑے وزیر کو بلایا اور کہا اس موتی کو ہتھوڑا لے کر توڑ ڈالو۔وزیر تھوڑی دیر قبل دربار میں اس موتی کی تعریف سن چکا تھا۔سب لوگوں نے اس کے سامنے موتی کی شان اور خوبی بیان کی تھی اور انہوں نے اس کی قیمت کا بہت زیادہ اندازہ لگایا تھا۔اس کے بعد بادشاہ کا وزیر کو یہ کہنا کہ ہتھوڑے سے اس موتی کو توڑ ڈالو ایک عجیب بات تھی۔اس کا دل ڈر گیا کہ بادشاہ مجھے پکڑنا نہ چاہتا ہو وہ ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا بادشاہ سلامت! مجھ ناچیز کو آپ نے ابھارا، بلند کیا اور اپنا وزیر بنالیا۔اس کے