زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 171

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 171 جلد چهارم لنڈے میں حساب رکھتے تھے اردو میں حساب رکھنے کا رواج نہیں تھا اس لئے تمام کام ہندوؤں کے ہاتھ میں تھا۔حتی کہ مسلمانوں کو ہندومنشی رکھنے پڑتے تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ جب کبھی بادشاہ کو حساب دیکھنے کی ضرورت پیش آتی تو وہ یہ بتانے کے لئے کہ ہمارے بغیر کام نہیں ہو سکتا کہہ دیتے کہ یہ بات تو دو تین ماہ میں پوری ہوگی۔ایک اہم موقع پر خلیفہ نے جب حساب طلب کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ حساب تین چار ماہ تک پیش کیا جا سکے گا۔اس نے اُسی وقت اپنے افسر کو بلایا اور کہا یہ تو بڑی مصیبت ہے کہ جب چاہیں حساب دیں اور جب چاہیں نہ دیں پھر بھی کیا اعتبار ہے کہ ان کا حساب صحیح ہوتا ہے یا غلط ، اس لئے سارے دفا تر عربی زبان میں کر دیئے جائیں۔اس پر افسروں نے کہا کہ پچھلا حساب پچاس سال سے چلا آ رہا ہے اس کو عربی زبان میں تبدیل کرنے اور پھر عربی زبان میں حساب رکھنے کے لئے نئے طریقے ایجاد کرنے پر بیسیوں سال لگ جائیں گے۔بادشاہ نے کہا میں تو یہ چاہتا ہوں کہ یہ چھ ماہ میں ہو جائے۔انہوں نے کہا یہ تو ناممکن ہے۔اُس وقت حجاج جو بہت ظالم مشہور ہے نو جوان تھا اور بہت تیز طبیعت کا تھا۔وہ بادشاہ کا منہ چڑھا تھا اور رشتہ دار بھی۔اس کو بادشاہ نے بلایا اور کہا کہ یہ مشکل ہے میں چاہتا ہوں کہ یہ کام چھ ماہ میں ہو جائے۔حجاج نے کہا میں چھ ماہ میں کرا دوں گا۔چنانچہ اس نے چھ ماہ میں سارا حساب کھول کر رکھ دیا۔تو جب تک ہمارے ہاتھ اس طرح بندھے ہوئے ہوں گے کہ ہم مجبور ہوں کہ دوسرے لوگ ہمارا کام کریں اُس وقت تک کبھی بھی ہماری قوم ترقی نہیں کر سکتی کیونکہ ہمارے راستے میں ہر جگہ رکاوٹیں پیدا کرنے والے لوگ موجود ہوں گے۔کامل قوم وہی ہوتی ہے جس میں ہر قسم کے افراد موجود ہوں۔اگر اس قوم کے افراد بیمار ہوتے ہیں تو ضروری ہے کہ اس میں ڈاکٹر موجود ہوں۔اگر مقدمات ہوتے ہیں تو ضروری ہے اپنے وکیل موجود ہوں۔اگر چیزیں خریدنے کی ضرورت ہے تو ضروری ہے کہ ان میں تاجر موجود ہوں۔پھر جس قسم کی تجارت سے واسطہ پڑتا ہوضروری ہے کہ وہ تجارت ان کے