زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 170

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 170 جلد چهارم اور علم کو پیدا کرنا چاہئے۔اگر ایسا کیا جائے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ ماں تو ہو مگر اس کے بچے نہ ہوں۔اگر ماں کے بچے پیدا نہ ہوں گے تو نسل ختم ہو جائے گی۔اسی طرح اگر امیت کی نسل نہ ہوگی تو بنی نوع انسان کی علمی ترقی سب ختم ہو جائے گی۔کیونکہ اگر بیج کو صرف بیج کی حد تک ہی رکھا جائے اور اس کو بو یا نہ جائے تو درخت کبھی پیدا نہیں ہو سکتا۔اگر اللہ تعالیٰ ایک اُمّی کے ذریعہ اپنا سلسلہ قائم کرتا ہے تو وہ یہ امید رکھتا ہے کہ وہ سلسلہ بعد میں علوم ظاہری و باطنی کو لے کر دنیا کا مقابلہ کرے۔پس ہماری جماعت کے نو جوانوں کو یہ بات مد نظر رکھنی چاہئے کہ انہوں نے دنیوی قوموں کا مقابلہ کرنا ہے انہیں اس کے لئے دونوں قسم کے علوم حاصل کرنے ہوں گے یعنی دنیوی بھی اور مذہبی بھی۔جب تک یہ دونوں باتیں ہمارے اندر پیدا نہ ہوں گی ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔کوئی قوم اُس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس کی دینی اور دنیوی عمارتیں صحیح نہ ہوں۔اگر دنیوی عمارتیں صحیح نہ ہوں گی تو قدرتی بات ہے کہ دنیوی کاموں کے لئے ہمیں غیر قوموں کی طرف نظر اٹھانی پڑے گی۔اور جب غیر قوموں کے لوگ ہمارے دنیوی کام ٹھیک کریں گے تو یہ لازمی بات ہے کہ ان کے اخلاق و عادات اور ان کے عقائد ہمارے نوجوانوں پر بھی اثر کریں گے اور ہماری قوم کی دیوار محفوظ نہیں رہ سکے گی۔پس جب تک ہم اپنے تمام کاموں کو خود پورا نہ کر سکیں اُس وقت تک ہم اپنی قابلیت کا سکہ دنیا پر نہیں جما سکتے۔رسول کریم ﷺ کی ہجرت کے قریباً سو سال بعد کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ بنوامیہ کے ایک خلیفہ کے زمانہ میں حساب میں گڑ بڑ پیدا ہوگئی اور انہوں نے حکم دیا کہ حسابوں کو درست کر کے پیش کیا جائے۔اس کی تعمیل میں جن افسروں کو حکم دیا گیا انہوں نے کہا کہ حساب کی درستی میں اتنے مہینے لگ جائیں گے اور اتنے مہینوں کے بعد ہم حساب کو صحیح کر کے پیش کر سکیں گے۔اُس زمانے میں ابھی عربی میں حساب رکھنے کا رواج نہیں ہوا تھا کیونکہ حساب دان یہودی تھے اور وہی حساب کے محکموں کے افسر تھے اس لئے عبرانی میں ہی حساب رکھا جاتا تھا۔جس طرح آج سے کچھ سال پہلے لوگ