زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 172

زریں ہدایات (برائے طلباء) 172 جلد چهارم ہاتھ میں ہو۔اسی طرح ہر قسم کے علوم سے بھی وہ واقف ہوں اور ان پر ان کو عبور حاصل ہو۔غرض ہر وہ چیز جس سے ان کو واسطہ پڑے ان کا ان کے قبضہ میں ہونا ضروری ہے۔اگر ایک چیز بھی جس کی ہمیں ضرورت ہے ہمارے ہاتھ میں نہیں تو یہ لازمی بات ہے کہ اس کے ذریعہ ایسا نتیجہ پیدا نہیں ہو گا جس سے ہمیں اپنے آپ کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔مثلاً بعض جگہوں پر صرف موٹروں اور لاریوں اور ریلوں کی سٹرائیک سے ہی گورنمنٹیں بدل جاتی ہیں۔ایک قوم کے لوگ یا ایک خیال کے لوگ اس پر قبضہ کر لیتے ہیں اور اس پر قبضہ کرنے کے بعد جب چاہیں سٹرائیک کر دیتے ہیں۔اب خواہ فوج موجود ہو لیکن فوج مثلاً لکھنو میں بیٹھی ہے اور فوج کی ضرورت دہلی میں ہے اور لاریوں اور ریل والوں نے سٹرائیک کر دی ہے تو اب فوج دہلی جائے تو کس طرح جائے۔پس ترقی کے لئے ہر علم کے آدمیوں کا قوم میں موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔جس قانون سے کوئی آزاد نہیں ہوا ہم اس سے کس طرح آزاد ہو سکتے ہیں۔ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ ہماری جماعت میں ہر قسم کے آدمی ہوں اور ہوشیار آدمی ہوں۔جو کند ذہن لڑکے ہیں وہ ہر میدان میں جا کر شکست کھاتے ہیں مگر ذہین اور ہوشیار لڑکے ہر میدان میں اول رہتے ہیں۔اول نمبر کے مقابلہ میں جو دوسرے نمبر پر ہوگا یقینا ہار جائے گا اور اول نمبر والا جیتے گا۔اگر کہیں کوئی لڑائی ہوتی ہے تو جولڑ کے زیادہ ذہین ہوں گے ، جو تعلیم میں زیادہ ہوشیار رہے ہوں گے وہ توپ بھی اچھی چلائیں گے ، ان کی بنی ہوئی تو پیں بھی زیادہ اعلیٰ ہوں گی۔اور یہ لازمی بات ہے کہ دوسری طرف کے سپاہی خواہ کتنے بہادر ہوں چونکہ ان کے لئے تو ہیں بنانے والے ہوشیار نہیں ہوں گے اس لئے ان کی تو ہیں دور کی مار نہیں کریں گی۔اسی طرح ان کی بندوقیں دور کی مار نہیں کریں گی اس لئے دوسروں کے مقابلہ میں وہ کچھ کر نہیں سکیں گے اور ہار جائیں گے۔غرض دوسرے نمبر کی چیز دنیا میں کبھی زندہ نہیں رہ سکتی۔وہی چیز زندہ رہ سکتی ہے جو اول نمبر پر ہو۔جب تک ہمارے نوجوان اول نمبر پر آنے کی کوشش نہ کریں گے ، جب تک وہ اپنی قابلیت کو اتنا نہ