زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 152
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 152 جلد چهارم بند کر دیں بجائے اس کے کہ بے دینی اور خلاف مذہب حرکات کو برداشت کریں۔اس کالج کے پروفیسروں کو بھی یہ امر مد نظر رکھنا چاہئے کہ بیرونی دنیا میں عام طور پر صداقت کو اُس وقت تک قبول نہیں کیا جاتا جب تک یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کتنے لوگ اس بات کو پیش کر رہے ہیں۔اگر ایک جتھہ کی طرف سے کوئی بات پیش کی جارہی ہو تو اُسے مان لیتے ہیں لیکن اگر ایک کمزور انسان کے منہ سے صداقت کی بات نکلے تو اُس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ہمیں اس طریق کے خلاف یہ عمل کرنا چاہئے کہ اگر صداقت صرف ایک لڑکے کے منہ سے نکلتی ہے تو ہم اس بات کا انتظار نہ کریں کہ جب تک سولر کا اُس کی تائید میں نہیں ہو گا ہم اُسے نہیں مانیں گے بلکہ ہمیں فور وہ بات قبول کر لینی چاہئے کیونکہ صداقت کو قبول کرنے میں ہی برکت ہے اور صداقت کو قبول کرنے سے ہی قومی ترقی ہوتی ہے۔یہ امر بھی یادرکھنا چاہئے کہ ہمارا طریق سارے کا سارا اسلامی ہونا چاہئے۔بے شک ہندو ،سکھ ، عیسائی جو بھی آئیں ہمیں فراخ دلی کے ساتھ اُنہیں خوش آمدید کہنا چاہئے مگر جہاں تک اخلاق کا تعلق ہے ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ اُن کے اخلاق سرتا پا مذ ہب کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہوں۔اُن کی عادات مذہب کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہوں ، اُن کے افکار مذہب کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہوں ، اُن کے خیالات مذہب کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہوں۔پس جہاں ہمارے پروفیسروں کا یہ کام ہے کہ وہ تعلیم کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیں وہاں اُن کا ایک یہ کام بھی ہے کہ وہ رات دن اس کام میں لگے رہیں کہ لڑکوں کے اخلاق اور اُن کی عادات اور اُن کے خیالات اور اُن کے افکار ایسے اعلیٰ ہوں کہ دوسروں کے لئے مذہبی لحاظ سے وہ ایک مثال اور نمونہ ہوں۔اگر خدا تعالیٰ کی توحید کا یقین ہم لڑکوں کے دلوں میں پیدا کرتے ہیں تو ہندؤوں اور سکھوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ ہندو بھی خدا کے قائل ہیں اور سکھ بھی خدا کے قائل ہیں۔اگر ہم دہریت کو مٹاتے ہیں، اگر ہم خدا تعالیٰ کی ہستی کا یقین لڑکوں کے دلوں میں پیدا کرتے ہیں، اگر ہم اللہ تعالیٰ کی محبت کا درس اُن کو دیتے ہیں تو اُن کے ماں باپ یہ سن