زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 153
زریں ہدایات (برائے طلباء) 153 جلد چهارم کر برا نہیں منائیں گے بلکہ خوش ہوں گے کہ ہمارے لڑکے ایسی جگہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں جہاں دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ اُن کی مذہبی لحاظ سے بھی تربیت کی جارہی ہے۔پس جہاں تک تو حید کے قیام کا سوال ہے، جہاں تک مذہب کی عظمت کا سوال ہے، جہاں تک خدا تعالیٰ کی محبت کا سوال ہے مسلمان، ہندو، سکھ، عیسائی سب اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ اُن کو یہ تعلیم دی جائے کیونکہ اُن کا اپنا مذہب بھی یہی باتیں سکھاتا ہے۔میرے نزدیک ہمیں ان باتوں پر اس قدر زور دینا چاہئے کہ ہمارے کالج کا یہ ایک امتیازی نشان بن جائے کہ یہاں سے جو طالب علم بھی پڑھ کر نکلتا ہے وہ خدا پر پورا یقین رکھتا ہے، وہ اخلاق کی حفاظت کرتا ہے، وہ مذہب کی عظمت کا قائل ہوتا ہے۔اگر ایک ہندو یہاں سے بی۔اے کی ڈگری لے کر جائے تو اُسے بھی خدا تعالیٰ کی ذات پر پورا یقین ہونا چاہئے۔اگر ایک سکھ یہاں سے بی۔اے کی ڈگری لے کر جائے تو اُسے بھی خدا تعالیٰ کی ذات پر پورا یقین ہونا چاہئے۔وہ دہریت کے دشمن ہوں ، وہ اخلاق سوز حرکات کے دشمن ہوں، وہ مذہب کو نا قابل عمل قرار دینے والوں کے مخالف ہوں اور یور بین اثر سے پوری طرح آزاد ہوں۔وہ چاہے احمدیت کو مانتے ہوں یا نہ مانتے ہوں مذہب کی بنیادی باتیں اُن کے دلوں میں ایسی راسخ ہوں کہ اُن کو وہ کسی طرح چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں۔اسی طرح ہمارے کالج کا ایک امتیازی نشان یہ بھی ہونا چاہئے کہ اگر ایک عیسائی یا یہودی اس جگہ تعلیم حاصل کرے تو وہ بھی بعد میں یہ نہ کہے کہ سائنس یا حساب یا فلسفہ کے فلاں اعتراض سے مذہب باطل ثابت ہوتا ہے بلکہ جب بھی کوئی شخص ان علوم کے ذریعہ اس پر کوئی اعتراض کرے وہ فوراً اُس کا جواب دے اور کہے میں ایک ایسی جگہ پڑھ کر آیا ہوں جہاں دلائل و براہین سے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ اس دنیا کا ایک خدا ہے جو سب پر حکمران ہے میں ایسے اعتراضات کا قائل نہیں ہوں۔اگر ہم دہریت کی تمام شاخوں کی قطع و برید کر دیں، اگر ہم خدا تعالیٰ کی ہستی کا یقین کالج میں تعلیم پانے والے لڑکوں کے دلوں میں اس مضبوطی سے پیدا کر دیں کہ دنیا کا کوئی