زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 151

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 151 جلد چهارم واقعہ مشہور ہے کہ کوئی یتیم لڑکا جس کی ماں چکی پیس پیس کر گزارہ کیا کرتی تھی ایک دن اپنی ماں سے کہنے لگا مجھے دو آنے چاہئیں۔ماں نے اُسے کہا میرے پاس تو صرف ایک آنہ ہے وہ لے لو۔مگر لڑ کا ضد کرنے لگا اور کہنے لگا میں تو دو آنے ہی لوں گا۔وہ لڑکا اُس وقت چھت کی منڈیر پر بیٹھا تھا ماں کو کہنے لگا مجھے دو آنے دو ورنہ میں ابھی چھلانگ لگا کر مر جاؤں گا۔اُس بیچاری کا ایک ہی لڑکا تھا وہ اُسے ہاتھ جوڑے ہنتیں کرے اور بار بار کہے کہ بیٹا! ایک آنہ لے لے اس سے زیادہ میرے پاس کچھ نہیں۔مگر وہ یہی کہتا چلا جائے کہ مجھے دو آنے دے نہیں تو میں ابھی چھلانگ لگا تا ہوں۔ماں نیچے کھڑی روتی جائے اور بچہ اوپر بیٹھ کر چھلانگ لگانے کی دھمکی دیتا چلا جائے۔اُس وقت اتفاقا گلی میں سے کوئی زمیندار گزر رہا تھا۔وہ پہلے تو باتیں سنتا رہا آخر اُس نے وہ آلہ جس سے توڑی ہلائی جاتی ہے اور جسے سانگھا کہتے ہیں نکال کر اُس لڑکے کے سامنے کیا اور کہا تو اوپر سے آ میں نیچے سے سانگھا تیرے پیٹ میں ماروں گا۔لڑکا یہ سنتے ہی کہنے لگا میں نے چھلانگ تھوڑی لگانی ہے میں تو اپنی ماں کو ڈرا رہا تھا۔تو اس قسم کی باتیں وہیں سنی جاتی ہیں جہاں زور اور طاقت سے دوسرے لوگ مرعوب ہو جاتے ہوں لیکن ہم وہ ہیں جنہیں اسلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ صداقت خواہ ایک کمزور سے کمزور انسان کے منہ سے نکلے اُسے قبول کر لو اور صداقت کے خلاف کوئی بات قبول مت کرو چاہے وہ ایک طاقتور کے منہ سے نکل رہی ہو۔قادیان سے باہر بے شک ایسی باتیں ہوتی رہتی ہیں لیکن ہمارے سلسلہ کی کسی انسٹی ٹیوٹ میں اس قسم کی باتیں برداشت نہیں کی جاسکتیں۔پس ہمارے نوجوانوں کو خود بھی احمدیت کے نقش قدم پر چلنا چاہئے اور دوسرے نو جوانوں پر بھی واضح کرنا چاہئے کہ یہاں کوئی ایسا طریق برداشت نہیں کیا جاسکتا جو دین کے خلاف ہو اور جو مذہبی روایات کے منافی ہو۔ہم نے یہ کالج دین کی تائید کے لئے بنایا ہے۔اگر کسی وقت یہ محسوس ہو کہ یہ کالج بجائے دین کی تائید کرنے کے بے دینی کا ایک ذریعہ ثابت ہو رہا ہے تو ہم ہزار گنا یہ زیادہ بہتر سمجھیں گے کہ اس کا لج کو -