زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 135
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 135 جلد چهارم نتیجہ میں وہ اس کالج کی تعلیم سے فائدہ حاصل نہ کرسکیں وہاں منتظمین کو یہ بھی چاہئے کہ وہ کالج کے پروفیسروں کے ایسے ادارے بنائیں جو ان مختلف قسم کے اعتراضات کو جو مختلف علوم کے ماتحت اسلام پر کئے جاتے ہیں جمع کریں اور اپنے طور پر اُن کو ر ڈ کرنے کی کوشش کریں۔اور ایسے رنگ میں تحقیقات کریں کہ نہ صرف عقلی اور مذہبی طور پر وہ ان اعتراضات کو رڈ کر سکیں بلکہ خود اُن علوم سے ہی وہ اُن کی تردید کر دیں۔میں نے دیکھا ہے بسا اوقات بعض علوم جو رائج ہوتے ہیں محض ان کی ابتدا کی وجہ سے لوگ ان سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ذرا کوئی تھیوری نکل آئے تو بغیر اُس کا ماحول دیکھنے کے اور بغیر اُس کے مال اور ماعلیہ پر کافی غور کرنے کے وہ ان سے متاثر ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور اسے علمی تحقیق قرار دے دیتے ہیں۔مثلاً پچھلے سو سال سے ڈارون تھیوری نے انسانی دماغوں پر ایسا قبضہ کر لیا تھا کہ گو اس کا مذہب پر حملہ نہیں تھا مگر لوگوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اس تھیوری کی وجہ سے تمام مذاہب باطل ہو گئے ہیں کیونکہ ارتقاء کا مسئلہ ثابت ہو گیا ہے۔حالانکہ جس مذہب پر اس تھیوری کا براہ راست حملہ ہو سکتا تھا وہ عیسائیت ہے، اسلام پر اس کا کوئی حملہ نہیں ہو سکتا تھا۔اسی طرح جہاں تک خدا تعالیٰ کے وجود کا علمی تعلق ہے ارتقاء کے مسئلہ کا مذہب کے خلاف کوئی اثر نہیں تھا صرف انتہائی حد تک پہنچ کر اس مسئلہ کا بعض صفات الہیہ کے ساتھ ٹکراؤ نظر آتا تھا اور درحقیقت وہ بھی غلط فہمی کا نتیجہ تھا۔لیکن ایک زمانہ ایسا گزرا ہے جب یہ سمجھا جاتا تھا کہ ڈارون تھیوری کے خلاف کوئی بات کہنا عقل اور سائنس پر حملہ کرنا ہے۔مگر اب ہم دیکھتے ہیں آہستہ آہستہ وہی یورپ جو کسی زمانہ میں ڈارون تھیوری کا قائل تھا اب اس میں ایک زبر دست رو اس تھیوری کے خلاف چل رہی ہے اور اب اس پر نیا حملہ حساب کی طرف سے ہوا ہے۔چنانچہ علم حساب کے ماہرین اس طرف آ رہے ہیں کہ یہ تھیوری بالکل غلط ہے۔مجھے پہلے بھی اس قسم کے رسالے پڑھنے کا موقع ملا تھا مگر گزشتہ دنوں جب میں دہلی گیا تو وہاں مجھے اب کے ایک بہت بڑے ماہر پروفیسر مولر کے ملے جنہیں پنجاب یونیورسٹی نے بھی