زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 134
زریں ہدایات (برائے طلباء) 134 جلد چهارم تیار نہیں کہ خدا کا فعل اس کے قول کے خلاف ہوتا ہے، نہ ہم یہ ماننے کے لئے تیار ہیں کہ خدا کا قول اس کے فعل کے خلاف ہوتا ہے۔ہمیں ایک اور ایک دو کی طرح یقین ہے کہ خواہ ہمارے پاس ایسے ذرائع نہ بھی ہوں جن سے ان اعتراضات کا اسی رنگ میں دفعیہ کیا جا سکتا ہو جس رنگ میں وہ اسلام پر کئے جاتے ہیں یا جن علوم کے ذریعہ وہ اعتراضات کئے جاتے ہیں اُنہی علوم کے ذریعہ ان اعتراضات کا رڈ کیا جا سکتا ہو۔پھر بھی یہ یقینی بات ہے کہ جو اعتراضات خدا تعالیٰ کی ہستی پر پڑتے ہیں یا جو اعتراضات خدا تعالیٰ کے رسولوں پر پڑتے ہیں یا جو اعتراضات اسلام کے بیان کردہ عقائد پر پڑتے ہیں وہ تمام اعتراضات غلط ہیں اور یقیناً کسی غلط استنباط کا نتیجہ ہیں۔چونکہ اس قسم کے اعتراضات کا مرکز کالج ہوتے ہیں اس لئے ہمارے کالج کے قیام کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ مذہب پر جو اعتراضات مختلف علوم کے ذریعہ کئے جاتے ہیں اُن کا انہی علوم کے ذریعہ رڈ کیا جائے۔اور ہمارے کالج میں جہاں ان علوم کے پڑھانے والے پروفیسر مقرر ہوں وہاں ان کا ایک یہ کام بھی ہو کہ وہ انہی علوم کے ذریعہ ان اعتراضات کو رڈ کریں اور دنیا پر ثابت کریں کہ اسلام پر جو اعتراضات ان علوم کے نتیجہ میں کئے جاتے ہیں وہ سر تا پا غلط اور بے بنیاد ہیں۔پس جہاں دوسرے پر وفیسروں کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ ان اعتراضات کو زیادہ سے زیادہ قوی کرتے چلے جائیں وہاں ہمارے پروفیسروں کی غرض یہ ہوگی کہ وہ ان اعتراضات کا زیادہ سے زیادہ رڈ کرتے چلے جائیں۔اب تک ہمارے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں تھا جس سے یہ کام سرانجام دیا جا سکتا۔انفرادی طور پر ہماری جماعت میں پروفیسر موجود تھے مگر وہ چنداں مفید نہیں ہو سکتے تھے اور نہ اُن کے لئے کوئی موقع تھا کہ وہ اپنے مقصد اور مدعا کو معتد بہ طور پر حاصل کرسکیں۔پس جہاں ہمارے کالج سے منتظمین کو اور عملہ کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ غیر مذاہب کے طالب علم جو داخل ہونے کے لئے آئیں اُن کے داخلہ میں کوئی ایسی روک نہ ہو جس کے