زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 136

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 136 جلد چهارم پچھلے دنوں لیکچروں کے لئے بلایا تھا اور اُن کے پانچ سات لیکچر ہوئے تھے۔انہوں نے بتایا تھا کہ علم حساب کے رو سے یہ قطعی طور پر ثابت کیا جا چکا ہے کہ سورج اڑتالیس ہزار سال میں اپنے محور کے گرد چکر لگاتا ہے اور جب وہ اپنے اس چکر کو مکمل کر لیتا ہے تو اُس وقت مختلف سیاروں سے مل کر اُس کی گرمی اتنی تیز ہو جاتی ہے کہ اس گرمی کے اثر کی وجہ سے اس کے اردگرد چکر لگانے والے تمام سیارے پگھل کر راکھ ہو جاتے ہیں۔میں نے کہا اگر اڑتالیس ہزار سال میں تمام سیارے سورج کی گرمی سے پکھل کر راکھ ہو جاتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ دنیا کی عمر اس سے زیادہ نہیں ہوتی۔وہ کہنے لگے بالکل ٹھیک ہے دنیا کی عمر اس سے زیادہ ہر گز نہیں ہو سکتی۔میں نے کہا ابھی ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ یہ علم قطعی طور پر صحیح ہے لیکن اگر آپ کی رائے کو صحیح تسلیم کر لیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ڈارون تھیوری اور جیالوجی کی پرانی تھیوری بالکل باطل ہے۔وہ کہنے لگے یقیناً باطل ہیں۔میں نے کہا علوم کا اتنا بڑا ٹکراؤ آپس میں کس طرح ہو گیا ؟ انہوں نے کہا وہ تو علوم ہیں ہی نہیں عقلی ڈھکو سلے چلاتے ہیں اور ہم جو کچھ کہتے ہیں علم حساب کے رو سے کہتے ہیں۔بہر حال اب ایک ایسی رو چل پڑی ہے کہ وہ بات جس کے متعلق سو سال سے یہ سمجھا جا تا تھا کہ اس کے بغیر علم مکمل ہی نہیں ہو سکتا اب اسی کو رڈ کرنے والے اور علوم ظاہر ہو رہے ہیں۔اسی طرح نیوٹن کی تھیوری جو کششِ ثقل کے متعلق تھی ایک لمبے عرصہ تک قائم رہی مگر اب آئن سٹائن کے نظریہ نے اس کا بہت سا حصہ باطل کر دیا ہے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ جن باتوں سے دنیا مرعوب ہو جاتی ہے وہ بسا اوقات محض باطل ہوتی ہیں اور اُن کا لوگوں کے دلوں پر اثر نے علم کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اپنی جہالت اور کم علمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔جب دنیا میں ہمیں یہ حالات نظر آ رہے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ مسائل جنہوں نے سینکڑوں سال تک دنیا پر حکومت کی ہمارے پروفیسر دلیری سے یہ کوشش نہ کریں کہ بجائے اس کے کہ بعد میں بعض اور علوم ان کو باطل کر دیں ہماری انسٹی ٹیوٹ پہلے ہی ان کا غلط