زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 133
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 133 جلد چهارم تعلیم الاسلام کالج قادیان کے قیام کی اغراض 4 جون 1944ء کوتعلیم الاسلام کالج قادیان کے افتتاح کے موقع پر حضرت خلیفہ اسی الثانی نے جو تقریر فرمائی وہ حسب ذیل ہے:۔یہ تقریب جو تعلیم الاسلام کالج کے افتتاح کی ہے اپنے اندر دو گنا مقاصد رکھتی ہے۔ایک مقصد تو اشاعت تعلیم ہے جس کے بغیر تمدنی اور اقتصادی حالت کسی جماعت کی درست نہیں رہ سکتی۔جہاں تک تعلیمی سوال ہے یہ کالج اپنے دروازے ہر قوم اور ہر مذہب کے لئے کھلے رکھتا ہے کیونکہ تعلیم کا حصول کسی ایک قوم کے لئے نہیں ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم تعلیم کو بحیثیت ایک انسان ہونے کے ہر انسان کے لئے ممکن اور سہل الحصول بنا دیں۔میں نے لاہور میں ایک دو ایسی انسٹی ٹیوٹ دیکھیں جن کے بانی نے یہ شرط لگا دی تھی کہ ان میں کسی مسلمان کا داخلہ نا جائز ہوگا۔مجھ سے جب اس بات کا ذکر ہوا تو میں نے کہا اس کا ایک ہی جواب ہو سکتا ہے کہ مسلمان بھی ایسی ہی انسٹی ٹیوٹ قائم کریں اور اس میں یہ واضح کریں کہ اس میں کسی غیر مسلم کا داخلہ ناجائز نہ ہوگا کیونکہ ایک مسلم کا اخلاقی نقطۂ نگاہ دوسری قوموں سے مختلف ہوتا ہے۔پس جہاں تک تعلیم کا سوال ہے ہماری پوری کوشش ہوگی کہ ہر مذہب وملت کے لوگوں کے لئے تعلیم حاصل کرنا آسان ہو۔اس کالج کے دروازے ہر مذہب وملت کے لوگوں کے لئے کھلے ہوں اور انہیں ہر ممکن امداد اس انسٹی ٹیوٹ سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے دی جائے۔دوسرا پہلو اس کا یہ ہے کہ آجکل کی تعلیم بہت سا اثر مذ ہب پر بھی ڈالتی ہے۔ہم یقین ہیں کہ وہ غلط اثر ہوتا ہے کیونکہ وہ مذہب کے خلاف ہوتا ہے۔ہم یہ ماننے کے لئے