زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 36
زریں ہدایات (برائے طلباء) 36 جلد سوم إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولِ 2 تو ایسے الہامات جو کثرت سے امور غیبیہ کی خبریں دیں وہی رسالت ہے۔جب یہ رسالت ہے تو پھر کیوں یہ مقام آج کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا۔کیا خدا تعالیٰ کو غیب کا علم نہیں رہا؟ یا انسانوں کو اس کی ضرورت نہیں رہی ؟ آجکل تو تمام زمانوں سے بڑھ کر اس کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا خدا کو چھوڑ کر ظاہر پرست بن گئی ہے۔خدا کی ہستی سے انکار کیا ہے جارہا ہے۔اس کی طاقتوں اور قدرتوں کو قبول نہیں کیا جاتا۔پس اس زمانہ میں تو علم غیب کی بہت زیادہ ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو خدا تعالیٰ کی ہستی کا پورا پورا یقین ہو۔اور علم غیب خدا تعالیٰ سوائے نبیوں اور رسولوں کے اور کسی کو دیتا نہیں اس لئے ان کا آنا نہایت ضروری ہے۔بہت لوگوں کو یہ دھوکا لگا ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے جو کتاب یعنی شریعت لائے۔لیکن یہ غلط ہے۔دیکھو خدا تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرةً فِيهَا هُدًى وَنُوْرٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ 3 کہ ہم نے توریت کو اتارا اس میں ہدایت اور نور تھی۔اور بہت سے نبی اس سے فیصلہ کیا کرتے تھے۔پس معلوم ہوا کہ وہ نبی جو توریت سے فیصلہ کیا کرتے تھے ان پر کوئی شریعت نازل نہ ہوئی تھی تبھی تو وہ تورات سے فیصلہ کرتے تھے۔ورنہ وہ اپنی شریعت کے موافق کرتے۔اصل بات یہی ہے کہ نبی کے لئے کتاب یعنی شریعت لانے کی کوئی شرط نہیں ہے۔نبوت کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع پانے کا نام ہے۔اور اس کی اب بھی ضرورت ہے۔اور یہ بند نہیں ہوئی اور نہ ہوسکتی ہے۔تو غیر احمدیوں سے ہمارا ایک یہ اختلاف ہے کہ آنحضرت یہ کے بعد نبی آسکتا ہے یا نہیں۔ہم کہتے ہیں ایک نہیں آپ کے ماتحت اور آپ کی غلامی میں کئی آسکتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کوئی نہیں آسکتا۔وہ اپنی جہالت اور نادانی سے سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی نبی آنحضرت ﷺ کے بعد آئے تو آپ کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔مگر کیا واقعہ میں ایسا ہوتا ہے؟ ہم تو دیکھتے ہیں کہ جس کا رتبہ بڑا ہو اس کے ماتحت بڑے بڑے لوگ ہوتے ہیں۔کیا اس کا درجہ بڑا ہوتا ہے جس کے ماتحت تحصیلدار اور ڈپٹی کمشنر ہوں یا اس کا جس کے ماتحت صفائی کرنے والے چوہڑے وغیرہ؟ اس طرح کسی ایسے استاد کو لائق نہیں سمجھا جاتا جو یہ کہے کہ میرا کوئی شاگرد ایسا نہیں جو امتحان میں پاس ہو بلکہ سب کے سب ہی فیل ہوتے ہیں۔تو بڑائی کا معیار یہی ہوتا ہے صد الله