زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 35
زریں ہدایات (برائے طلباء) 35 جلد سوم اختلاف ہے۔بہت لڑکے ایسے ہوتے ہیں جو واقف نہیں ہوتے گو یہاں کی صحبت کی وجہ سے انہیں دوسروں کے ساتھ گفتگو کرنے کا شوق ہوتا ہے۔مگر ناواقفیت کی وجہ سے اچھی طرح کامیاب نہیں ہو سکتے۔اس لئے پہلے خود واقفیت پیدا کرنی چاہئے۔احمدیوں اور غیر احمدیوں میں پہلا اختلاف یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں خدا تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ختم ہوگئی ہے ، اس کے خزانوں پر قفل لگ گئے ہیں، اب اس کے پاس اپنے بندوں کو دینے کے لئے کچھ نہیں رہا لیکن ہم کہتے ہیں کہ جس طرح پہلے اس کے خزانے کھلے تھے اسی طرح اب بھی کھلے ہیں اور جس طرح پہلے وہ اپنے بندوں کو نعمتیں دیا کرتا تھا اسی طرح اب بھی دیتا ہے۔ان کے نزدیک ماموروں اور مرسلوں کا آنا بند ہو گیا ہے مگر ہمارے نزدیک نہ کبھی بند ہوا اور نہ ہوگا۔کیوں؟ اس لئے کہ کسی انعام کے بند ہونے کی دو ہی وجہیں ہوسکتی ہیں۔ایک یہ کہ دینے والا ہی نہ رہے یا اس میں دینے کی طاقت نہ رہے۔دوسرے یہ کہ کوئی لینے والا ہی نہ ہو یا اس کا استحقاق نہ ہو۔اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ دینے والا نہ رہے یا اس میں دینے کی طاقت نہ رہی ہو۔کیونکہ وہ خدا ہے۔اور یہ بھی نہیں کہ لینے والا کوئی نہ رہا ہو۔اسی مسجد میں دیکھو کتنے آدمی بیٹھے ہیں۔یہ ایک موٹی بات ہے۔دینے والا موجود، اس میں دینے کی طاقت موجود، پھر لینے والے موجود، ان کا استحقاق موجود، پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ کسی کو وہ انعام نہ دیا جائے جو پہلے دیا جاتا تھا۔پس ہمارے مخالفین کی یہ بات بالبداہت غلط ہے اور اس کے لئے کسی لمبی چوڑی بحث کی ضرورت نہیں ہے۔نبوت ایک درجہ انعام ہے۔اگر پہلے انسانوں کو خدا یہ مرتبہ دیتا تھا تو اب بھی دے سکتا ہے۔اگر پہلی امتوں کا اسے حاصل کرنے کا استحقاق ہوتا تھا تو اس خیر امم کا بہت ہی زیادہ حق ہے۔تو غیر احمد یوں اور ہم میں ایک فرق یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ پہلے خدا اپنے بندوں سے کلام کیا کرتا تھا اب نہیں کرتا۔پھر بعض کا یہ عقیدہ ہے کہ الہام کا دروازہ تو کھلا ہے مگر نبوت کا انعام بند ہو گیا ہے۔مگر وہ نادان نہیں جانتے کہ الہام ہی کے اعلیٰ مقام کا نام نبوت ہے۔جب کسی انسان کو کثرت سے ایسے الہامات ہوں جو امور مہمہ پر مشتمل ہوں تو وہی نبوت ہوتی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عَلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ أَحَدًان