زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 37
زریں ہدایات (برائے طلباء) 37 جلد سوم کہ اس کے ماتحت بڑے بڑے قابل اور بڑے درجہ کے لوگ ہوں۔پس ہم بھی آنحضرت ے کے بعد کسی ایسے نبی کے آنے کے قائل نہیں جو آپ کی شریعت یا نبوت کو مٹائے مگر ایسے نبی کے آنے کے قائل ہیں جو آپ کی غلامی میں رہ کر درجہ نبوت حاصل کرے اور آپ کے دین کی خدمت کرنے کے لئے بھیجا جائے۔رسول کریم ﷺ نے خود اس بات کا فیصلہ کر دیا ہے کہ عزت اور درجہ اسی کا بڑا ہوتا ہے جس کے ماتحت بڑے بڑے ہوں۔چنانچہ آپ نے فرمایا لَوْ كَانَ مُوسَىٰ وَ عِيْسَىٰ حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتِّبَاعِی 4 کہ اگر عیسی اور موسیٰ زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری اتباع کرنی پڑتی۔اگر کسی نبی کا دوسرے نبی کی اتباع کرنا ذلت ہوتی تو کیا نعوذ باللہ رسول اللہ ﷺ یہ اپنی ذلت کے لئے کہہ رہے تھے؟ نہیں بلکہ اپنی بڑائی اور درجہ بتلانے کے لئے کہا تھا کہ اگر وہ زندہ ہوتے تو میری اتباع کرتے۔اس بات نے اس کا فیصلہ کر دیا کہ نبی کے ماتحت نبیوں کا ہونا اس کی عزت ہوتی ہے نہ کہ ذلت۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آنحضرت ﷺ کے ماتحت نبی ہو کر آنا، آپ کے دین کی جدت کے لئے مبعوث ہونا آپ کی عزت ہے نہ کہ ذلت۔تو پہلا اختلاف ہم میں اور غیر احمدیوں میں یہ ہے کہ ہم کہتے ہیں خدا میں جو طاقتیں اور قدرتیں پہلے تھیں وہ اب بھی ہیں مگر وہ کہتے ہیں اب نہیں ہیں۔پھر وہ کہتے ہیں آنحضرت یی او کے بعد نبی نہیں آسکتے ہم کہتے ہیں آسکتے ہیں۔ہاں ایسے نہیں آسکتے جو آنحضرت ﷺ کے دین کو مٹائیں یا اس میں کچھ تغیر و تبدل کریں یا آپ کی غلامی کا دعوی نہ کریں۔یادر ہے کہ ہم آنحضرت ﷺ کے بعد کسی ایسے نبی کا آنا جو شریعت لائے اس لئے نہیں تسلیم کرتے کہ اس طرح قرآن ناقص قرار دینا پڑتا ہے نہ اس لئے کہ اس میں آنحضرت ﷺ کی ہتک ہے۔کیونکہ اس طرح کسی نبی کی بہتک نہیں ہوتی۔آنحضرت ﷺ نے شریعت موسی کو منسوخ کیا تو کیا آپ نے حضرت موسی کی بہتک کی؟ ہر گز نہیں۔ہاں تو رات کو نا قابل عمل قرار دیے دیا۔تو یہ ایک بڑا اختلاف ہے۔ورنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو فرمایا کہ ان کا اسلام اور ہے اور ہمارا اور۔ان کا خدا اور ہے ہمارا خدا اور ہمارا حج اور ہے ان کا حج اور۔اسی طرح ان سے ہر بات صلى الله