زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 31
زریں ہدایات (برائے طلباء) 31 جلد سوم بالکل آزاد کر دیئے جاتے ہیں۔تو چھٹی کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ کام کرنے کے دنوں میں جو تم نے خوب محنت اور کوشش کی ہے اس کے بدلے آرام حاصل کرنے کے لئے تمہیں یہ موقع دیا جاتا ہے۔گو یہ عارضی بات ہوتی ہے مگر اس سے یہ بتایا جاتا ہے کہ دیکھو تمہیں اس چھٹی سے کس قدر خوشی حاصل ہوتی ہے۔حالانکہ یہ چند دن کی بات ہے۔اس سے اندازہ لگا لو کہ جب تیمو ب تمہیں ساری عمر کی چھٹی حاصل ہو جائے گی تو اُس وقت کس قدر خوشی اور راحت ہوگی اور وہ کیسی مزیدار ہوگی۔ایک طالبعلم جو سال کے اندر چھٹی کی لذت حاصل کرتا ہے اسے سمجھ لینا چاہئے کہ جب وہ دس بارہ سال یا اس سے کم و پیش عرصہ میں تعلیم ختم کر کے جو چٹھی حاصل کرلے گا اس سے کس قدر لذت حاصل ہوگی۔پھر یہ چھٹی ایک اور چھٹی کی طرف متوجہ کرتی ہے اور وہ موت کے بعد کی چھٹی ہے۔اُس وقت بھی انسان تمام محنتوں اور مشقتوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔اور اگر اسے کچھ کرنا بھی پڑتا ہے تو وہ بھی اس کے لئے لذت اور آرام ہی کا باعث ہوتا ہے اور وہ ایسی رخصت اور چھٹی ہے کہ جس کا خاتمہ نہیں ہے۔یہ چھٹی تو ڈیڑھ ماہ کے بعد ختم ہو جاتی ہے مگر موت کے بعد کی چھٹی ایسی چھٹی ہے جو کبھی ختم نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کے متعلق خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ عَطاء غَيْرَ مَجْذُوذ ا کہ وہ عطاء ایسی ہے جو بھی کئے گی نہیں۔پس تم غور کرو کہ جب دو ماہ کی تمہیں ایسی خوشی ہوتی ہے تو اس چھٹی سے کس قدر خوشی ہوگی جس کا خاتمہ ہی نہیں۔پھر ان رخصتوں میں تو ساتھ کام بھی لگا ہوتا ہے استاد گھر پر کام کرنے کے لیے دے دیتے ہیں۔مگر اُس میں کام نہیں ہوگا اور جو کچھ کہا جائے گا وہ حقیقی لذت اور سرور حاصل کرانے والا ہوگا نہ کہ بوجھ اور مشقت کے طور پر۔ان چھٹیوں میں طالب علموں کو یہ بھی خوف لگا رہتا ہے کہ ہم پھر واپس جائیں گے اور جب کوئی لڑکا رخصتوں کے ختم ہونے کے بعد بستر باندھ کر واپس آنے کے لئے چلتا ہے تو اس کی تمام خوشی کرکری ہو جاتی ہے جو چھٹیوں کی وجہ سے اسے ہوئی تھی۔یہاں ایک بچہ تھا جو ماں باپ کے پاس جانے کے لئے بہت بے تاب ہو رہا تھا اور اکثر افسردہ رہتا تھا۔ایک دن ہمارے تقی الدین نے مسمریزم سے اسے سلا کر گھر بار کی سیر کرائی جس سے وہ بہت