زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 30

زریں ہدایات (برائے طلباء) 30 جلد سوم خوش ہوتے ہیں؟ اگر یہ بات ہوتی تو وہ انہیں دس بیس روپے ماہوار خرچ کر کے یہاں کیوں بھیجتے ، اپنے پاس ہی کیوں نہ رکھتے۔پھر ایسے لڑکے بھی جو بھیک مانگنا پسند کرتے ہیں مگر تعلیم نہیں چھوڑ نا چاہتے وہ بھی چھٹی ملنے پر کیوں اس طرح خوش ہوتے ہیں جس طرح ست اور تعلیم سے جی چرانے والے لڑکے خوش ہوتے ہیں بلکہ وہ تو ان سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں کیوں؟ اس لئے کہ ست تو محنت کرنے سے ہمیشہ ہی آزاد رہتے ہیں اور جو محنتی ہیں انہیں یہی موقع ملتا ہے۔تو چھٹی سے اس لئے خوشی نہیں ہوتی کہ علم پڑھنے سے چھوٹ گئے۔پھر کیوں ہوتی ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ جو چیز کسی دوسری چیز کے مشابہ ہو وہ اس کے اندر اس قسم کے احساسات پیدا کر دیتی ہے جو دوسری کرسکتی ہے۔انسان شیر کی تصویر کو دیکھ لے تو اس کے ذہن میں بہت سے ایسے خیال آجائیں گے جو اصل شیر کو دیکھنے سے آسکتے ہیں یا اپنے محبوب کی تصویر دیکھ کر اسی طرح جذبات ابھرتے ہیں جس طرح اس کی اصل شکل کو دیکھ کر۔تو چونکہ چھٹی اُس زمانہ کو کہتے ہیں جو عمل کے بعد آرام حاصل کرنے کا زمانہ ہوتا ہے کوئی ایم اے پاس کر کے چھٹی کرتا ہے ، کوئی بی اے اور کوئی انٹرنس۔اسی طرح کوئی مولوی فاضل، کوئی مولوی عالم اور کوئی مولوی کا جب امتحان دے لیتا ہے تو سمجھتا ہے کہ میرا کسب علم کا زمانہ گزر گیا ہے۔اب میرے لئے اس کے سیکھنے کی محنت سے آزاد ہو کر اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع ہے۔اس وقت اسے تحصیل علم کی محنت اور مشقت سے آزادی مل جاتی ہے۔یہ زمانہ نہایت اعلیٰ درجہ کا ہوتا ہے۔اس کے حاصل کرنے کے لئے تمام محنتیں اور مشقتیں برداشت کی جاتی ہیں۔اسی کے لئے بڑی بڑی تکلیفیں اٹھائی جاتی ہیں۔اور اسی کے لئے دن رات ایک کر دیا جاتا ہے۔اس آزادی اور چھٹی کے زمانہ کا نمونہ چونکہ چھٹیاں ہوتی ہیں اس لئے ان سے خوشی حاصل ہوتی ہے۔وہ تعلیم حاصل کرنے سے آخری چھٹی ہوتی ہے اور یہ چھٹیاں اس کے یاد دلانے کے لئے چھوٹے پیمانہ پر ہوتی ہیں کہ جاؤ سال کے بعد اتنے دن چھٹی مناؤ مگر چونکہ ان کا مقصد اور مدعا اپنی آخری منزل کو نہیں پہنچا ہوتا اس لئے پھر بلا لئے جاتے ہیں۔پھر اگلے سال آزاد کر دیئے جاتے حتی کہ جب آخری حد کو پہنچ جاتے ہیں تو