زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 32
زریں ہدایات (برائے طلباء) 32 جلد سوم - خوش ہوا۔لیکن جب اسے کہا گیا کہ چلو واپس تمہاری رخصت ختم ہوگئی ہے تو وہ چیخ مار کر رو پڑا۔یہ تو ایک آنی نقشہ تھا مگر یہی حال لڑکوں کا ہوتا ہے۔یہاں سے خوشی خوشی گھر جاتے ہیں لیکن وہاں سے آتے وقت کئی بہانے بناتے ہیں۔کوئی کہتا ہے ابا آج مجھے نزلہ کی شکایت ہے یہ اچھا ہولے تو جاؤں گا۔کوئی ماں کے پاس منہ بسورتا ہوا جاتا ہے کہ ابا جان کو کہیے ایک دو دن اور رہ لینے دیں۔پھر کوئی کہتا ہے بقر عید قریب آگئی ہے میرا بڑا دل چاہتا ہے کہ عید گھر کروں اس لئے | عید کے بعد جاؤں گا۔اس قسم کی باتیں تعلیم سے جی چرانے والے اورست لڑکے ہی نہیں کرتے ہوشیار اور محنتی لڑکے کا بھی ماں باپ اور عزیزوں سے جدا ہونے کی وجہ سے یہی جی چاہتا ہے کہ سکچھ دن اور رہ لے۔تو اس چھٹی کی خوشی کے ساتھ رنج بھی لگا ہوا ہے اور اگر طالب علم اُس وقت کے رنج کا خیال کرے جو اسے چھٹیاں ختم کر کے واپس آنے کے وقت ہوتا ہے اور اپنے ذہن میں اس وقت کی اپنی حالت کا نقشہ کھینچے تو اس کی خوشی بہت کم ہو جائے گی۔مگر باوجود اس کے اس عارضی چھٹی کی خوشی ایسی غالب ہوتی ہے کہ گویا انہیں ہفت اقلیم کی بادشاہت مل جاتی ہے۔میں نہیں سمجھتا کہ وہ لوگ جو پانی کی طرح اپنا خون بہا کر یا بارش کی طرح برستی ہوئی آگ سے گزر کر پہاڑ کی چوٹی پر قابض ہوتے ہیں انہیں بھی لڑکوں جیسی خوشی ہوتی ہو۔لڑکوں کو ان سے زیادہ ہی ہوتی ہے۔چھٹی ملنے کی تاریخ سے سات آٹھ دن پہلے ہی ان کی پڑھائی چھٹ جاتی ہے استاد حساب لکھا رہا ہوتا ہے مگر ان کا حساب یہی ہوتا ہے کہ ان چھٹیوں کے ساتھ فلاں فلاں چھٹی اور مل جائے گی پھر اتنے دن ہو جائیں گے۔اتنے دن فلاں جگہ رہیں گے۔اتنے دن فلاں جگہ۔اسی طرح ان دنوں ان کا جغرافیہ یہ نہیں ہوتا کہ لندن کہاں ہے اور پیرس کہاں بلکہ یہی ہوتا ہے کہ لدھیانہ کب پہنچیں گے یالا ہور کب یا کوئی اور جگہ جہاں کسی نے چھٹیوں میں جانا ہو۔اسی طرح ان کو تاریخ میں یہ نظر نہیں آتا کہ بابر کون تھا اور اکبر کون۔بلکہ یہی کہ پچھلی دفعہ ہم فلاں فلاں دوست سے ملے تھے اب فلاں فلاں سے ملیں گے۔اسی طرح استاد انگریزی یا عربی پڑھا رہا ہے مگر ان کے کانوں میں بہن بھائیوں کی پیاری پیاری یا ماں باپ کی محبت بھری آواز گونج رہی ہوتی ہے۔پھر بچوں کا کیا کہنا ہے مدرسوں کا بھی یہ حال ہوتا ہے کہ بہت دن